میرا صفحہ: اس ٹینشن کا کوئی علاج؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کا مسئلہ ڈیپریشن۔۔۔ آج جس دور میں ہم سانس لے رہے ہیں، دیکھا جائے تو ہر قدم پر ہی مسائل کے انبار ہیں اور چاہتے ہوئے بھی ہم ان سب سے خود کو دور نہیں رکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی کہا ہے کہ ’بے شک انسان ناشکرا ہے‘ اور یہ حقیقت ہے۔ مسائل اور پریشانیاں کہاں نہیں ہوتیں، بس ہر ایک کے مسئلے کی نوعیت ذرا مختلف ہوتی ہے۔ اب وہ مسئلہ ملکی ہو یا گھریلو نوعیت کا، مسئلہ تو مسئلہ ہی ہوتا ہے۔ ہم ملک سے باہر رہتے ہیں۔ یہاں اس طرح کا تو کوئی مسئلہ نہیں کہ کبھی بجلی نہیں تو کبھی پانی نہیں اور کبھی گیس کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ سیکیورٹی کا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ آدھی رات کو بھی اکیلے نکل جائیں تو کوئی خطرہ نہیں۔ نہ چوری کا خطرہ نہ دن دیہاڑے ڈاکے کا خوف لیکن پھر بھی جس کو دیکھو، کسی نہ کسی غم میں گھلا جا رہا ہے۔ جو ملک میں ہیں ان کو ملک سے باہر جانے کا سودا سوار ہے اور جو ملک سے باہر ہیں ان کو ملک میں بیٹھے پیاروں کی ہر پل یاد ستا رہی ہے۔ کوئی بم بلاسٹ کی خبر آئے، کوئی سیلابی ریلہ آگیا، کچھ بھی ہو، پیچھے والوں کی خوشی اور سلامتی کی فکر لاحق رہتی ہے۔ کچھ نہیں تو خوشی کے مواقع پر نہ پہنچ سکنے کی صورت میں جو ایک تکلیف اور دکھ ہوتا ہے، اس کی وجہ سے ہی دکھی ہوکر چپکے یا اعصابی تناؤ کا شکار ہوئے بیٹھے رہتے ہیں۔ میرے اردگرد آج کا یہی مسئلہ سب سے گمبھیر مسئلہ ہے۔ جی ہاں، ٹینشن اور ڈیپریشن، جس کا کوئی علاج نہیں، جس کی کوئی دوا نہیں اور جس پر سمجھانے کے باجود کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں خود جو اس وقت بہت علامہ بنی آپ کو یہ سب لکھ رہی ہوں، اسی مسئلے کا سب سے بڑا شکار ہوں۔ کبھی بچوں کے امتحان کی تیاریوں میں اس حد تک کھونا کہ پاگل ہوئے پھرنا ڈیپریشن کا سبب بن جاتا ہے اور کبھی بہن بھائی کی صحت کی یا کوئی اور پریشانی۔ گو کسی اور کو کوئی مسئلہ ہو تو جب تک اس کو پوری کوشش کرکے سلجھا نہ دوں اور حل نہ کردوں، چین سے نہیں بیٹھ سکتی اور ہر طریقے سے اس کی دل جوئی میں مصروف ہوجاتی ہوں لیکن خود کسی نہ کسی وجہ سے ڈیپریشن کا شکار رہتی ہوں۔ آپ کے خیال میں یہ آج کی دنیا کا ایک بڑا مسئلہ نہیں ہے؟ پہلے جب زندگی اس قدر سہل اور آسان نہیں تھی، سکون کی فراوانی زیادہ تھی۔ یا پھر آج کا انسان زیادہ سہولتیں پاکر زیادہ ناشکرا ہوگیا ہے کہ ہر دوسرا فرد، بی پی، کولیسٹرول اور شوگر کا مریض ہے۔ ہر مرض کی بنیاد فکر ہی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ آگاہی کی وجہ سے ہے اور کچھ ناشکری کی وجہ سے بھی۔ تھوڑی سی پریشانی میں ہم اپنے سے زیادہ پریشان اور دکھی لوگوں کے دکھ بھول کر خودترسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہمارے بڑوں کو وہ سہولتیں کبھی حاصل نہ تھیں جو آج ہمیں ہیں لیکن وہ سکون آور دواؤں کے بغیر اچھی نیند لیتے تھے اور وہ مرض جو پہلے ایک خاص عمر کے لوگوں تک ہی مخصوص سمجھے جاتے تھے، اب اتنی چھوٹی عمر کے بچوں کو بھی لاحق ہونے لگے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بری بیماریوں کے لیے تو علاج تجویز ہوجاتا ہے، دوائیں اور مشورے مل جاتے ہیں، لیکن ان خودساختہ مسئلوں کا کوئی حل نکال سکتا ہے؟ کوئی کچھ بتائے گا کیا؟ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنےمسائل کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||