رائے: بچوں میں کمپیوٹر کی تعلیم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل بچوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کو عام بنانے کا رجحان چل پڑا ہے۔یہ صرف حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے ہر علاقے میں عام بات ہے۔ والدین بھی بچوں کا داخلہ کرانے سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس اسکول میں کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے یا نہیں۔ سات سے آٹھ سال کی عمر کے بچوں کے اندر کمپیوٹر کی واقفیت پائی جاتی ہے۔ حیدرآباد کے معاشرے میں ایک انگلش ماحول پیدا ہوگیا ہے اور انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم پر زور دی جارہی ہے۔ چند سال پہلے تک ہم کمپیوٹر فیلڈ میں بہت پیچھے ہوا کرتے تھے اور لوگوں میں کمپیوٹر کی جانب رجحان نہیں تھا۔ آندھر پردیش کی حکومت کمپیوٹر کی مفت تعلیم کا انتظام کررہی ہے۔ فری کوچنگ انسٹی ٹیوٹ قائم کیے گئے ہیں جہاں غریب طبقے کے لوگ مفت کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ ریاستی حکومت، بالخصوص چندرا بابو نائڈو کے وقت سے، زور دے رہی ہے کہ ہمارے عوام پڑھے لکھے ہوں اور کپیوٹر خواندہ ہوں تاکہ حکومتی اداروں میں کام فاسٹ ہو۔ پہلے عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اب کام آسانی سے ہورے ہیں۔ لیکن کمپیوٹر کی وجہ سے بےرزوگاری بھی پھیل رہی ہے۔ حیدرآباد کے مسلم گھرانوں میں گذشتہ دس برسوں کے دوران کافی تبدیلی آئی ہے، لوگ کمپیوٹر کی جانب مائل ہیں۔ بچوں کو کمپیوٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے یا انگریزی میں بولتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ کچھ برسوں پہلے ہمارے طالب علمی کے زمانے میں اگر کوئی انگریزی بولتا تھا تو لوگ اسے تعجب سے دیکھتے تھے۔ چندرا بابو نائڈو نے اسکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور سرکاری اداروں میں کمپیوٹرائزیشن کو فروغ دینا شروع کیا اور اداروں کو موڈرنائز کیا جانے لگا جس کی وجہ سے عوام میں بھی کمپیوٹر کی جانب ماحول بن گیا ہے۔ کمپیوٹر میں دلچسپی کی وجہ سے اسکولوں میں بھی کمرشیئلائزیشن یعنی بزنس اور کمپیٹیشن بڑھ گیا ہے۔ لیکن کمپیٹیشن کی وجہ سے تعلیمی معیار میں بہتری ہورہی ہے۔ آج کل بچوں کے لئے کمپیوٹروں میں وڈیو گیمز لوڈ کرنے کا رجحان بھی ہے۔ پہلے تعلیم عام نہیں تھی لیکن آج کل ہر شخص کمپیوٹر خواندہ بننا چاہتا ہے۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنے علاقے کے مسائل کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||