BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 February, 2005, 17:58 GMT 22:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میری رائے: ڈیم کیوں ٹوٹتے ہیں

سیلاب سے لگ بھگ تیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں
سیلاب سے لگ بھگ تیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں
بلوچستان میں شادی کور ڈیم کے ٹوٹنے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں:

ایک، یہ ہوسکتا ہے کہ اس ڈیم کا ڈیزائین ناقص تھا کیوں کہ جس نااہل انجینیئر کو یہ کام سونپا گیا تھا وہ قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سفارش کی وجہ سے تھا۔

دو، ہوسکتا ہے کہ بارش کی وجہ سے ڈیم کا پانی خطرے کی سطح سے اوپر آگیا اور وقت پر ڈیم سے پانی کو خارج نہ کیا گیا۔ ایسا نہ کرنا مجرمانہ لاپرواہی کہی جاسکتی ہے۔

تین، ہوسکتا ہے کہ سوئی تنازعے سے دنیا اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ڈیم کا پانی خطرے کی سطح سے اوپر آجانے کے باوجود ڈیم سے خارج نہ کیا گیا ہو۔

چار، ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں سے لگتا ہے کہ ڈیم میں دراڑیں پڑگئی تھیں۔ اگر حکام کو یہ معلوم تھا تو ہوسکتا ہے کہ وقت پر دانستہ طور پر کارروائی نہ کی گئی تاکہ وقت پر بلوچستان کے عوام پر پیسے کی فوج اور پاکستانی حکومت کی جانب سے امداد دے کر احسان کی جائے۔

انیس سو چھیانوے یا ستانوے میں ایک ایسے ہی لائحۂ عمل کے طور پر منگلا ڈیم سے پانی نکالا گیا تھا۔۔۔

شادی کور ڈیم کے ٹوٹنے کی جو بھی وجہ ہو وہ دنیا کے سامنے جلد آجائے گی۔ ہوسکتا ہے کہ اس علاقے کے قوم پرست صحافی اس کی صحیح وجہ پتہ لگانے میں کامیاب ہوجائیں۔

اب کیا کیا جاسکتا ہے؟
میرے خیال سے شادی کور ڈیم کے ٹوٹنے کے بعد حسب ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک، غذا اور طبی امداد فوری طور پر متاثرہ لوگوں کو پہنچائی جائے۔

دو، وہ گاؤں اور دیہات جو تباہ ہوئے ہیں ان کو جدید طرز پر پھر سے بسایا جائے۔ گورنمنٹ کے ٹاؤن پلانرز اور آرکیٹیکٹ نئے پلان بنائیں جن میں روڈ، ہسپتال، سکول اور شاپنگ سنٹر سبھی ضروریات کو نظر میں رکھا جائے۔

تین، متاثرین کو پیسے دیے جائیں کہ وہ سرکاری انجینیئروں کی مدد سے اپنے مکان خود سے تعمیر کرسکیں۔ حکومت انہیں سستے دام پر تعمیراتی سامان فراہم کرے۔

چار، اگر بلوچستان حکومت کے پاس سستے داموں پر مکانات تعمیر کرنے کے سامان نہیں ہیں تو وہ ہندوستان کی حکومت سے مدد طلب کرے کیوں کہ ہندوستان کے پاس سستے مکان بنانے کا تجربہ ہے۔

پانچ، میرے خیال میں لاہور میں واقع نیشنل کالج آف آرٹس کے سابق پروفیسر کامل خان ملک کے نامور آرکیٹیکٹ ہیں اور انہوں نے اس فیلڈ میں کام کیا ہے۔ شاید ایسے لوگوں سے مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

چھ، بلوچستان کے قوم پرستوں کو چاہئے کہ وہ ڈیم کے مقامی ملازمین کی مدد سے ڈیم کے ٹوٹنے کی اصلی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کریں۔

نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت قارئین کے خیالات شائع کیے جاتے ہیں جن سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد