بلوچستان:بارش، ہلاکتیں، بجلی بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارش اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے مختلف واقعات میں بلوچستان میں گزشتہ دو دنوں میں کم سے کم چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں خانو زئی کے قریب ہلاک ہونے والے ایک ہی گھر کے آٹھ افراد بھی شامل ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے بائیس اضلاع کو بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع آواران اور پسنی میں سیلابی ریلے سے کئی دیہات زیر آب اور مکانات بھی منہدم ہو گئے ہیں۔ واپڈا کے محکمہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دو روز قبل سبی کے قریب بجلی کے ایک کھمبے کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس وقت اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا لیکن جمعرات کی صبح بارش اور تیز ہواؤں سے بجلی کا کھمبا گرگیا ہے جس سے صوبے کے بائیس اضلاع کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ انتیس جنوری کو نا معلوم افراد نے بلوچستان کے بائیس اضلاع کو بجلی فراہم کرنے والی لائن کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا جس کی مرمت تاحال مکمل نہیں ہوئی ہے۔ ادھر آج آواران میں بارشوں اور سیلابی ریلے سے کئی مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پسنی میں سیلابی ریلے سے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ پسنی پاور سٹیشن بارشوں کی زد میں آ گیا ہے جس سے گوادر اور پسنی کو بجلی کی ترسیل منقطع ہوگئی ہے۔ مقامی صحافی امام بخش بہار نے بتایا ہے کہ سیلابی پانی میں دو افراد بہہ گئے ہیں جبکہ واپڈا کے کچھ افراد سیلابی پانی پھنس گئے ہیں جنہیں بچانے کے لیے ہیلی کاپٹر طلب کر لیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||