مکران: ہلاک شدگان کی تعداد 135 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں سیلاب اور شادی کور ڈیم ٹوٹنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو پینتیس ہو گئی ہے جبکہ بیس ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ گوادر کے قریب ایک اور ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ پسنی سنسر اورماڑہ اور کیچ کے علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں آج ایک سی ون تھرٹی طیارہ امدادی اشیاء لے کر گوادر پہنچا ہے ۔ پسنی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں لوگ بے گھر پڑے ہیں۔ بیشتر نے پہاڑوں اور ٹیلوں کے اوپر پہنچ کر جان بچائی ہے اور اس وقت امداد کے منتظر ہیں۔ پسنی سے ایک عینی شاہد غلام یسین نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ مقامی لوگ امدادی کارروائیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ دس فروری کوگیارہ بجے کے قریب شادی کور ڈیم سے پانی شروع ہو گیا تھا لیکن حکام نے اس طرف بالکل توجہ نہیں دی گئی انھوں نے کہا ہے کہ لوگ یہاں احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ گوادر کے ناظم بابو گلاب نے کہا ہے کہ بعض علاقوں میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے انھوں نے غیر سرکاری تنظیموں اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ لوگوں کی مدد کے لیے سامنے آئیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق صوبہ بلوچستان میں بارشوں کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو رہا ہے۔ سنیچر کو شام کے وقت کوئٹہ میں بارش شروع ہو چکی ہے۔ گوادر سے آمدہ اطلاعات کے مطابق چلگری ڈیم میں پانی خطرناک حد تک چلا گیا ہے جہاں سے مقامی آبادی کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ گوادر سے مقامی صحافی امام بخش بہار نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اکثر مقامات پر مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ کئی مقامات پر پانی کھڑا ہے اور ہیلی کاپٹر اتر نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا ہے کہ چھ سو لوگ لاپتہ ہیں ۔ اب سے تھوڑی دیر پہلے کچھ لوگ میلوں مسافت طے کرکے پیدل پسنی پہنچے ہیں۔ صوبائی وزیر عاصم کرد گیلو پسنی سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ اب تک کئی لاشیں نکالی گئی ہیں اور مزید لاشوں کے نکلنے کا خدشہ ہے۔ جوں جوں پانی کم ہو رہا ہے لاشیں نکل رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||