بلوچستان میں سیلاب سے 22 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر پسنی میں شادی کور ڈیم ٹوٹنے سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق بائیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ علاقے میں اچانک سیلاب آجانے سے سینکڑوں گھر تباہ ہوگئے ہیں اور کئی افراد ابھی تک آر سی ڈی ہائی وے پر پھنسے ہوئے ہیں۔ نیوں اور کوسٹ گارڈ نے امداد پہنچانی شروع کردی ہے اور امدادی کاموں میں ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔
یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایک بس پانی میں بہہ گئی ہے جس میں تیس افراد سوار تھے۔ صوبائی وزیر شیر جان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ڈیم کے قریب دو دیہاتوں کی آبادی سات سو افراد پر مشتمل تھی جو زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پسنی کا ملک کے دوسرے حصوں سے زمینی اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ شادی کور ڈیم دو سال قبل چار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ سیلابی ریلوں سے کوسٹل ہائی وے کا ایک بڑا حصہ بہہ گیا ہے جس کے بعد کراچی گوادر شاہراہ بند کر دی گئی ہے۔ پسنی میں پاور سٹیشن ڈوبنے کی اطلاعات ہیں۔ صوبائی حکومت اس بارے میں نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ گوادر سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے شام سے لوگوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے لوگوں کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ ڈیم کسی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ ان علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے اتنی شدید بارشیں نہیں ہوئی ہیں۔ ادھر کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ سنارو کے مقام پر چار پل ٹوٹ گئے ہیں جس کے بعد کوئٹہ اور کراچی کے مابین ٹرانسپورٹ روک دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||