BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 November, 2004, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امداد کی بندش، ماحولیاتی خطرہ

News image
کوہستان میں پرندہ ججیل کی نسل کو خاتمے کا سامنا ہے۔
پاکستان کے صوبہ سرحد کے دورافتادہ پہاڑی ضلع کوہستان میں یورپی اتحاد کی جانب سے امداد کی بندش سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا ایک اہم اور منفرد منصوبہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

صوبائی حکومت نے یورپی اتحاد سے اس منصوبے کو مکمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

ضلع کوہستان میں چودہ سو مربع کلومیٹر علاقے پر محیط سرسبز وادیِ پالس میں ماہرین کے مطابق پانچ سو اقسام کے پودے، ڈیڑھ سو سے زائد پرندے اور انتیس اقسام کے بڑے جانور پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس علاقے کو بائیو ڈاورسٹی کا ہاٹ سپاٹ قرار دیا گیا ہے۔

یہاں اپنی نسل کے خاتمے کے امکان سے دوچار خوبصورت پرندہ ججیل کی سب سے بڑی تعداد اسی علاقے میں پائی گئی ہے۔ اسی پرندے کی وجہ سے اس وادی کو بین الاقوامی نقشے میں اجاگر کرنے کا اعزاز ملا۔

News image
کوہستان کا علاقہ تاریخی طور پر قدامت پسند ہے اور بچپن سے ہی لڑکیوں کو پردہ کرایا جاتا ہے۔

اقتصادی اعتبار سے یہ انتہائی پسماندہ علاقہ ہے جس کی وجہ سے ساٹھ ہزار کی مقامی آبادی کا ذیادہ تر انحصار قدرتی وسائل پر ہے۔ انیس سو بانوے کے ملک گیر سیلابوں نے یہاں بھی کافی تباہی مچائی اور یہاں کی اقتصادیات تقریبا ختم ہو کر رہ گئیں۔

وادی کا صرف چار فیصد علاقے قابل کاشت ہے۔

یہ علاقہ کس اعتبار سے منفرد ہے اس بارے میں سرحد کے چیف کنزویٹر جنگلات ڈاکٹر ممتاز ملک کا کہنا تھا کہ اس علاقے کو ناصرف پاکستان بلکہ ہمالیہ ریجن میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔

حکومت پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان انیس سو اٹھانوے میں اس علاقے کے منفرد قدرتی وسائل بمشول جنگل، جنگلی حیات اور دیگر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے ایک پانچ سالہ منصوبہ شروع کرنے کا معاہدہ کیا۔

پالس میں شروع کئے جانے والے اس منصوبے کے بارے میں ڈاکڑ ممتاز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یورپی اتحاد کو اس علاقے کی منفرد حیثیت کا احساس تھا۔ لہذا انہوں نے اس منصوبے کا آغاز کیا تاکہ ججیل پرندے کی نسل کا تحفظ کیا جاسکے۔

تقریبا اٹھائیس کروڑ روپے مالیت کے اس منصوبے پر عمل درآمد انتظامی اور فنی مسائل کی وجہ سے جولائی دو ہزار ایک میں ہوسکا۔ خیر کام کا آغاز ہوا منصوبے کے اہداف حاصل کئے جانے لگے کہ اب یکایک یورپی یونین نے منصوبے کو مقررہ وقت سے دو سال قبل ہی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس فیصلے کو سرحد حکومت ناقابل فہم قرار دے رہی ہے۔ صوبائی وزیر اور علاقے سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی مولانا محمد عصمت اللہ کا کہنا تھا کہ یہ تو ایسی مثال ہے کہ ماں اپنے بچے کو دودھ دیتے دیتے آدھے میں ہاتھ کھینچ لے۔ ’ہماری یورپی اتحاد سے اپیل ہے کہ وہ اس منصوبے کو مکمل کرنے میں صوبائی حکومت کی مدد کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے اس منصوبے پر عمل درآمد کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا کہ اتحاد کو کوئی شکایت یا بہانے کا موقع نہ دیں۔ البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ مقامی آبادی کو منظم کرنے میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی لیکن اس کی وجہ وہاں کا سخت گیر معاشرہ تھا۔

ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ پالس کے تحفظ کے منصوبے کو مکمل نہ کرنے کی صورت میں اس پر گزشتہ تین برسوں میں لگی منصوبے کی پیتالیس فیصد رقم اور محنت بھی رائیگاں ثابت ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد