BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 February, 2005, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: سیلاب سے ستر ہلاکتیں
بلوچستان
بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں کئی سال بعد شدید بارش(فائل فوٹو)
بلوچستان میں حالیہ شدید بارشوں کے نتیجے میں شادی کور ڈیم ٹوٹنے کی وجہ سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم سے کم ستر بتائی جا رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق پچیس سے تیس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے بلوچستان میں قائم کرائسس منیجمنٹ سیل کے سربراہ شیر جان بلوچ کا کہنا تھا کہ ساٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان کی لاشیں مل گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ناگہانی آفت میں پچیس سے تیس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پسنی کے علاقے میں پانچ دیہات جن میں کم از کم سات ہزار کے قریب آبادی تھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

دریں اثناء بلوچستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ چند سال قبل تعمیر ہونے والے شادی کور ڈیم میں فنی نقائص تھے اور اس کی تعمیر ناقص تھی۔ انہوں نے کہا کہ چار کروڑ روپے کی مالیت سے تعمیر ہونے والے اس ڈیم میں پہلے بھی دراڑیں پڑ چکی تھیں اور حکام نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

انہوں نے اس ڈیم کے ٹوٹنے کو حکومت کی غفلت قرار دیا۔ تاہم حکومت نے اس سلسلے میں تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں لیکن امدادی کام کرنے والوں کو سیلاب کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں کام کرنےوالے حکام کے مطابق کئی جگہوں پر ہیلی کاپٹر بھی نہیں اتارا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کئی جگہوں پر متاثرہ افراد کے لیے خوارک، دوائیاں ، کمبل اور دیگر امدادی اشیاء فضا ہی سے گرائی جا رہی ہیں۔ امدادی کاموں میں فوج کے گیارہ ہیلی کاپٹر اور تین سو جوان کام کر رہے ہیں۔

چند سال قبل کراچی سے بلوچستان کے ساحل کے ساتھ ساتھ بنائی گئی کوسٹل ہائی وے کا چالیس کلو میٹر کا حصہ بہہ گیا ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کے درمیان آر سی ڈی ہائی وے پر کئی پل ٹوٹ گئے ہیں۔

حکام کے مطابق بہت سے لوگ ابھی تک لا پتہ ہیں اور سینکٹروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں تاہم ایک ہزار افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

چار کروڑ کا ڈیم
 شادی کور ڈیم دو سال قبل چار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایک بس پانی میں بہہ گئی ہے جس میں تیس افراد سوار تھے۔

صوبائی وزیر شیر جان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ڈیم کے قریب دو دیہاتوں کی آبادی سات سو افراد پر مشتمل تھی جو زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

شادی کور ڈیم دو سال قبل چار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔

سیلابی ریلوں سے کوسٹل ہائی وے کا چالیس کلومیٹر کا حصہ بہہ گیا ہے جس کے بعد کراچی گوادر شاہراہ بند کر دی گئی ہے۔

پسنی میں پاور سٹیشن ڈوبنے کی اطلاعات ہیں۔ صوبائی حکومت اس بارے میں نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

گوادر سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ نے شام سے لوگوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے لوگوں کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ ڈیم کسی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔ ان علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے اتنی شدید بارشیں نہیں ہوئی ہیں۔

ادھر کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ سنارو کے مقام پر چار پل ٹوٹ گئے ہیں جس کے بعد کوئٹہ اور کراچی کے مابین ٹرانسپورٹ روک دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد