 |  ایک شخص جس کا گھر سیلاب میں بہہ گیا |
بلوچستان میں بارشوں اور شادی کور ڈیم ٹوٹنے کی وجہ سے بھاری تباہی ہوئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ایک سو پینتیس سے زائد بتائی جارہی ہے جبکہ اس کی وجہ سے لگ بھگ تیس ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ پسنی کے علاقے میں دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تربت مند اور تمپ کے علاقوں میں پُل بہہ گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ حکومت ہنگامی امداد پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔ بعض علاقوں میں لوگ ابھی بھی سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا ہے۔ کیا آپ ان متاثرہ علاقوں میں ہیں؟ مقامی ذرائع ابلاغ اور آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے آپ کو کیا معلومات پہنچ رہی ہیں؟ لوگوں کی زندگی کیسے متاثر ہوئی ہے؟ کیا ہنگامی امداد متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہی ہے؟ اس کا علاقے کے ماحولیات پر کیا اثر پڑے گا؟ آپ اپنی رپورٹ تفصیل سے لکھئے۔ یہ فورم اب بند ہوچکا، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
نادیہ شاہد، صوابی: حکمران اپنی حکومت بچانے میں مصروف ہیں اور مشرف اپنی وردی۔ انہیں عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بالخصوص پشتونوں، بلوچوں اور سندھیوں کے مسائل۔ جاوید، جاپان: جنرل مشرف صاحب کے اس بیان کا کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ فوج ہی ہر برے وقت میں مدد کرتی ہے؟ کہیں یہ برا وقت جان بوجھ کر تو نہیں لایا گیا کیوں کہ آج کی سیاست میں سب کچھ ممکن ہے۔ حکومت اور سرداروں کی جنگ میں عام انسان ہی مررہا ہے۔ ابھی تک کوئی سردار یا حکومت کا بڑا عہدے دار تو مرا نہیں نہ فوج کا کوئی جرنیل، ۔۔۔۔ اسد جعفری، ٹورانٹو: یہ وقت الزام تراشی کا نہیں ہے بلکہ یونائٹیڈ ہوکر کام کرنے کا ہے۔ ہم سب پاکستانی ولگوں کو اس مشکل وقت میں پاکستان کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہئے، نہ کہ بیان بازی۔ دنیا بھر میں ریلیف فنڈز قائم کرنے چاہئیں۔ چاروں صوبوں میں فنڈز جمع کرنا چاہئے۔۔۔۔ امین کاشف، بیجنگ: سبھی کو معلوم ہے کہ بلوچستان کی تباہی ڈیم کے ٹوٹنے سے ہے۔ میری سوچ سے باہر ہے کہ ایسا ہوا کیوں کہ دنیا میں بننے والے ہر ڈیم میں ایکسیس واٹر نکالنے کا طریقہ ہوتا ہے۔ اس ڈیم سے بھی پانی نکالنے کا راستہ بنایا گیا ہوگا۔ یہ واضح ہے کہ کچھ غلط ہوا ہے اور کچھ ایجنٹ اس ڈیم کے ٹوٹنے میں ملوث ہیں۔  | بلوچوں کے اپنے وسائل  بلوچستان کو گورنمنٹ جو مدد دے رہی ہے وہ در اصل بلوچوں کے اپنے وسائل ہیں، گیس، تیل، سنگر مرمر، نمک، چاندی، لوہا وغیرہ جو بلوچستان کی سرزمین سے نکل کر اپنے بینک میں اور آرمی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔  شریف خان مری بلوچ، بلوچستان |
شریف خان مری بلوچ، بلوچستان: بلوچستان کو گورنمنٹ جو مدد دے رہی ہے وہ در اصل بلوچوں کے اپنے وسائل ہیں، گیس، تیل، سنگر مرمر، نمک، چاندی، لوہا وغیرہ جو بلوچستان کی سرزمین سے نکل کر اپنے بینک میں اور آرمی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کبھی بھی پاکستان کے آگے شرمندہ ہیں۔۔۔۔۔ محمد آصف اچکزئی، چمن: جتنی بارشیں اس سال بلوچستان میں ہوئی ہیں اس سے تو کئی گنا بارشیں پنجاب اور سرحد کا معمول ہے لیکن کیا وہاں ڈیم ٹوٹا؟ یا سڑکیں ٹوٹی، نہیں نہ۔ تو اس کی اصل وجہ یہاں کا نظام اور یہاں کے سردار ہیں۔ جب تک یہ ہے تب تک ہم اسی طرح ان کے ہاتھوں سسکتے سسکتے جان دے دیں گے۔ لیکن پھر بھی ان کو چین نہیں آنے والا۔۔۔۔۔ حسن سمرا، لاہور: بلوچستان کے عوام کی مشکل کی اس گھڑی میں مدد کی جانی چاہئے۔ مجھے تربت اور اس کے قریب میرانی ڈیم کا دورہ کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان علاقوں میں پانی کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس کی کمی سے نمٹنے کے لئے ڈیم بنانے بہت ضروری ہیں۔ مگر ڈیم سیفٹی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہئے تاکہ یہ ڈیم لوگوں کے لئے فائدہ پہنچانے کے بجائے الٹا بدترین نقصان کا باعث نہ بنے۔ اشرف علی شاہ، ٹورانٹو: بارش پاکستان بھر میں بلکہ پورے خطے میں ہوئی ہے۔ بالائی علاقوں میں برف کے تودے گرنے سے کچھ اموات ہوئی ہیں۔ جبکہ زیادہ تباہی بلوچستان میں ہوئی ہے۔ صرف ڈیم نہیں بلکہ سڑکیں اور پہل بھی بری طرح تباہ ہوئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ بلوچستان میں ناقص تعمیراتی کا ہوتے ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اب جو اطلاعات ہیں امدادی کام بھی پسنی میں چند ایک فوجی جوان، باقی ہر متاثرہ علاقے میں وہاں کے لوکل اپنی مدد آپ کچھ کررہے ہیں۔۔۔۔ رانا نجم مشتاق، ہانگ کانگ: یہ سیلاب اور تباہی خدا کی طرف سے ہے۔ ان لوگوں کے لئے وارننگ ہوسکتی ہے جو سوئی گیس کی پائپ لائن کو تباہ کرتے ہیں۔ غفار سلیمان، بلوچستان: یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کی حکومت اور اس کے تمام ادارے نااہل ہیں۔ مگر یہ کبھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کہ پانچ کروڑ میں معیاری ڈیم بنتا ہے؟۔۔۔۔ زونی، اسپین: میرے خیال سے حکومت بلوچستان کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ غلام رضا چنگزئی، ہالینڈ: مجھے لگتا ہے کہ یہ فطرتی آفت نہیں ہے، یہ انسان کی پیدا کی ہوئی آفت ہے۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ نئے تعمیر شدہ پل، ڈیم اور روڈ تھوڑی سی بھی بارش سے ٹوٹ جاتے ہیں کیوں کہ سفارش اور کمیشن کی بنیاد پر ٹھیکے دیے جاتے ہیں۔۔۔۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: اگر یہ ’اللہ‘ کی جانب سے ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر یہ حکومت کی وجہ سے ہوا ہے تو بہت بری بات ہے۔ یہ وقت بلوچستان کے بھائیوں کے لئے مشکل ہے۔ خدا انہیں صبر عطا کرے۔  | فنڈ اکٹھا کریں، مدد پہنچائیں  میرا خیال ہے کہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر فنڈز اکٹھا کرنے چاہئیں اور ان لوگوں کو جو پانی میں پھنس گئے ہیں ان کو ہر قسم کی امداد پہنچانی چاہئے۔ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ اس گھڑی میں بھی سیاسی باتیں کررہے ہیں۔  عاطف مرزا، آسٹریلیا |
عاطف مرزا، آسٹریلیا: میں اس بات پر حیران ہوں کہ لوگ بجائے یہ بتانے کے کہ متاثرین کی مدد کیسے کی جاسکتی ہے وہ زیادہ فکرمند ہیں کہ حکومت پر الزام لگانے میں۔ یہ افسوس کا مقام ہے اور جہالت کی انتہا ہے۔ بلوچ بےچارے اگر آج اتنے جاہل ہیں تو اس کی وجہ ان کے وہ سردار ہیں جنہوں نے ان کو اس حالت میں رکھا ہوا ہے۔ میرا خیال ہے کہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر فنڈز اکٹھا کرنے چاہئیں اور ان لوگوں کو جو پانی میں پھنس گئے ہیں ان کو ہر قسم کی امداد پہنچانی چاہئے۔ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ اس گھڑی میں بھی سیاسی باتیں کررہے ہیں۔ ان کو اپنے غریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ وہ مدد کی بجائے نفرت کی غلاظت بکھیر رہے ہیں اپنے ہی پیارے وطن میں۔ راشد بلوچ، حیدرآباد سندھ: گزشتہ سال بدین میں واپڈا کی وجہ سے سیلاب آئے۔۔۔۔۔بدین میں بچے بچے کو معلوم ہے کہ سیلاب واپڈا کی وجہ سے آیا۔۔۔۔۔۔ (واضح نہیں)۔۔۔۔ یہ صحیح ہوسکتا ہے کہ دونوں ڈیم کو فوج یا اس کے ایجنٹوں نے توڑ دیا ہو۔۔۔۔ کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا: یا خدا کیا بنے گا میرے پاکستان کا۔ ہمارے سیاست دانوں نے کچھ نہیں چھوڑا اور باقی جو رہ گیا ہے کہ وہ ایسے ہی ختم ہوجائے گا۔ خدا کے لئے شرم کرو اور آپس میں لڑائیاں چھوڑ کر سب بھائیوں کے دکھ میں ان کا ساتھ دو، خدا کے لئے۔ محمد فدا، کینیڈا: ایسا نہیں تھا کہ یہ غیرمتوقع تھا۔ سردار جو بلوچستان کے عوام پر اپنا رواتی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں انہوں نے کبھی جدید دور کے چیزوں کو قبول نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اسکول، ہسپتال اور واٹر رِزرووائر بنانے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے کیوں کہ ان سب اقدامات سے عام آدمی آزاد ہوجاتا ہے اور وہ کسی بھی فرد پر منحصر نہیں رہتا ہے۔ ۔۔۔ انیس سو ستر کے عشرے میں بھی جب مزاحمت زوروں پر تھی سردار کہتے تھے کہ وہ ڈیم اور پاور ہاؤسز پر بم برسادیں گے۔۔۔۔ عبدالستار: پاکستان کی حکومت اس آفت کے لئے ذمہ دار ہے۔ طالب حسین، جان پور ٹاؤن: اتفاق میں برکت ہے۔۔۔۔ اسلام مل جل کر رہنے کا درس دیتا ہے لیکن ہم نہیں رہتے اگر ایک گھر میں بےاتفاقی ہو جائے تو سکون نہیں رہتا ہے۔۔۔۔ عرفان خواجہ، لاہور: اب دوسرا ڈیم بھی ٹوٹ گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعمیراتی کاموں میں کرپشن ہے، بالخصوص بلوچستان میں کرپشن زیادہ ہے۔ حکومت ذمہ دار حکام کے خلاف سختی سے کارروائی کرے۔ عنایت خان، دوبئی: اس سے معلوم ہوا کہ صرف ڈیم بناتے ہیں نہیں اسے مینٹین بھی کرتے ہیں۔ اب کالا باغ ڈیم پر اعتراض کرنے والوں کا موقف مزید مضبوط ہوگا۔۔۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: یہ اللہ کی رحمت تھی پر اللہ کے بندوں کے بنائے ہوئے ڈیم اس کو سہار نہیں سکے۔ اس سے وہی ہوتا ہے کہ انسان کتنا خسارے میں ہے۔ اب حکومت کی باری ہے وہ کتنے پوائنٹ حاصل کرتی ہے فلاحی کام کرکے غریب عوام کے لئے جو وہ کبھی نہیں کرتی۔۔۔۔ ندیم ضیاء، امریکہ: ضرور بے گناہوں کا خون بہا ہے جس کی وجہ سے اللہ نے اپنا عذاب نازل کیا ہے۔ اللہ اپنا کرم کرے تمام مسلم امہ پر۔  | ایک ساتھ دو ڈیم ٹوٹ جائیں؟  یہ سب سازش کے تحت ہورہا ہے۔ ایک ساتھ دو ڈیم ٹوٹ جانا اچانک؟ یہ سب بلوچ تحریک کو دبانے کے لئے اور بلوچ قوم کو لاٹھی کے زور پر اپنا غلام بنانے کی چال ہے۔  ارشد سید، ناروے |
ارشد سید، ناروے: یہ سب سازش کے تحت ہورہا ہے۔ ایک ساتھ دو ڈیم ٹوٹ جانا اچانک؟ یہ سب بلوچ تحریک کو دبانے کے لئے اور بلوچ قوم کو لاٹھی کے زور پر اپنا غلام بنانے کی چال ہے۔ مگر مشرف نہیں جانتے کہ جب ہم لوگ چھوٹے تھے تب سنتے تھے کہ اللہ کی لاٹھی بےآواز ہے۔ مگر آج کے دور میں شاید مسٹر بش کی لاٹھی بے آواز ہورہی ہے۔ اللہ رحم کرے بلوچ بھائیوں اور بلوچ آزادی کی تحریکی فوجیوں پر۔۔۔۔۔۔ محمد ابرار اسلم، گجرانوالہ: میں کہتا ہوں عوام ہر بات پے گورنمنٹ کو ہی کیوں ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ یہ بارش تو اللہ کی طرف سے بلوچ عوام کا امتحان ہے۔ ان کو صبر سے کام لینا ہوگا اور جس حال میں ہیں اللہ کا شکر ادا کریں۔۔۔ علی شکر، قطر: شاید بلوچستان ہی پاکستان کے تجربہ گار کے لئے وجود میں آیا ہے۔ ایٹمی تجربہ تو پہلے ہوچکا ہے اور ڈیموں کا تجربہ ہورہا ہے۔ اور باقی نہ جانے کتنے تجربے ہوں گے۔ امیر جان، کراچی: ڈیم بنانے والوں نے اتنی بارش کی امید نہیں کی ہوگی۔۔۔ ہلال باری، لندن: جناب، یہ اللہ کا عذاب ہے اور اب بسنت منانے والے ویٹ کریں کہ ان کی باری کب آتی ہے۔ اللہ نے کہا ہے کہ جب کوئی نیشن عریانیت اور فحاشی میں لگ جاتی ہے تو وہ پوری نیشن کو سزا دیتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی برے کام میں شریک نہیں ہوتے۔۔۔۔ عمران چودھری، امریکہ: ان لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے جنہوں نے اس ڈیم کی تعمیر کی۔ اور حکومت کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے کہ وقت پر وارننگ نہیں دی اور لوگوں کی جانیں ضائع ہوگئیں۔ نجیب خان، سول لائنز: یہ لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے حکومت کی کوشش ہے، جو ایسے وقت کی گئی ہے جب بارشیں ہوتی ہیں۔ رابعہ ارشد، ناروے: ڈیم ٹوٹ گیا یہ تو پروپیگنڈہ ہے، یہ سب چال ہے، آپ دیکھتے رہیں اور ہم سنتے رہیں گے۔ پرویز بلوچ، سویڈن: بلوچستان میں ڈیم کیا بلوچ قوم کو بہا لے گئی؟ فقط بلوچوں کے مال اور منڈی کو لوٹا جارہا ہے۔۔۔۔ ڈاکٹر مراد بلوچ: بلوچ قوم اس وقت مصیبت میں ہے۔ بلوچستان کے عوام بہتر مشکل سے گزر رہے ہیں۔  | امداد کا وہاں تک جانا مشکل ہے  جناب جب زمینی راستے بند ہوچکے ہیں تو امداد کا وہاں تک جانا ظاہر ہے بہت مشکل ہے۔ مگر ایک بات تو ہے چاہے سارا بلوچستان اس سیلاب سے تباہ ہوجائے ہماری حکومت کہتی رہے گی کہ سب ٹھیک ہے، سب کنٹرول میں ہے۔  نوید نقوی، کراچی |
نوید نقوی، کراچی: میں وہاں گیا تو نہیں مگر کیوں کہ بلوچستان میں کام کرچکا ہوں اور ایک بار مجھے وہاں سیلابی بارش کا سامنا بھی کرنا پڑا تو اس لئے میں وہاں کے حالات اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں اور جناب جب زمینی راستے بند ہوچکے ہیں تو امداد کا وہاں تک جانا ظاہر ہے بہت مشکل ہے۔ مگر ایک بات تو ہے چاہے سارا بلوچستان اس سیلاب سے تباہ ہوجائے ہماری حکومت کہتی رہے گی کہ سب ٹھیک ہے، سب کنٹرول میں ہے۔ ابراہیم، سیالکوٹ: یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ اس صوبے کے کے لوگوں کو پریشانی ہوئی ہوگی۔ ہم سب کو مسلم امہ کے لئے دعائیں کرنی چاہئے۔ بہادر بلوچ، خضدار: پاکستان آرمی نے ڈیم کو لِیک کردیا ہے تاکہ بلوچ لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ ۔۔۔۔ لطیف اللہ، صوبہ سرحد: مسلمان اللہ اور رسول کے احکامات اور طریقوں کو چھوڑ کر ۔۔۔ و نصاریٰ کی پیروی کرنے لگے ہیں۔۔۔۔۔ زہیب مینگل، نوشکی: بلوچستان کے لوگوں کے لئے یہ ایک بدقسمتی ہے۔ بلوچستان میں کرپشن کے الزامات عام ہیں۔ غزالہ بیگ، پناما سٹی: گلوبل وارمِنگ کی وجہ سے ساری دنیا کا موسم چینج ہورہا ہے اور اب پاکستان بھی اس کے لپیٹے میں ہے۔ تمام لوگوں کو اس وقت حکومت کو الزام دینے کے بجائے نظم و ضبط کا مظاہرہ اور اپنی مدد آپ بھی کرنی چاہئے۔  | کہیں منصوبہ بندی نہیں۔۔۔۔  عصر حاضر میں ہماری غلطیاں اپنی اتنی ہیں جس کی سزا ہمیں بھگتنی ہوگی۔ ہماری ہی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے کتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ صرف ایک ڈیم ہی نہیں بنا، پاکستان میں کہیں پر بھی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔۔۔۔  سارہ خان، پشاور |
سارہ خان، پشاور: مخالف ادوار میں قدرتی آفات انسان کی تباہی کا سبب بنے اور انسان اس کا مقابلہ کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا۔ لیکن عصر حاضر میں ہماری غلطیاں اپنی اتنی ہیں جس کی سزا ہمیں بھگتنی ہوگی۔ ہماری ہی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے کتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ صرف ایک ڈیم ہی نہیں بنا، پاکستان میں کہیں پر بھی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔۔۔۔ ڈاکٹر ناصر حمید، اسلام آباد: ڈیم کا ٹوٹنا غاصب، ظالم اور کرپٹ حکومت کی ایک سازش ہے تاکہ لوگوں کی توجہ ہٹائی جاسکے۔ امین اللہ شاہ، میانوالی سٹی: بلوچستان میں جو کچھ ہوا ہے اس پر مجھے افسوس ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ آفات ہمیشہ غریب لوگوں کے لئے ہی کیوں آتی ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے جنہوں نے ناقص پلاننگ کی۔ اشفاق، فیصل آباد: آفت اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن اس سے ڈیم کے مخالف لوگوں کو مزید شہ ملے گی سادہ لوگوں کو بھٹکانے کے لئے۔ محمد فیصل، اسلام آباد: یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے جو ہم لوگ اس طرح کے آفات سے گزر رہے ہیں۔ اللہ ہم مسلمانوں کو معاف کرے۔ سلمان اکبر، کینیڈا: جو جانیں ضائع ہوئی ہیں ان پر مجھے کافی افسوس ہے۔ مجھے اس بار پر بھی فکر ہے کہ پاکستانی گورنمنٹ میرپور میں منگلا ڈیم کی اونچائی بڑھا رہی ہے۔ اگر وہ سیفٹی نظرانداز کرتے رہے تو متعدد جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ رہے گا۔ فضل کلمٹی، گوادر/کراچی: یہ سب ناقص کارکردگی اور میٹیریئل کے استعمال سے ہوا ہے جس سے غریب لوگوں کا کافی نقصان ہوا ہے۔ اگر کوئی ڈیم بنایا جاتا ہے تو پہلے سیفٹی کے تمام پریکوشن کرلیے جاتے ہیں کہ کسی وجہ سے باندھ ٹوٹ نہ جائے۔۔۔۔
|