رائے: سعودی انتخابات اور خواتین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے کئی سالوں سے سعودی حکومت اپنی منصوبہ بندیوں کی تجدید و اصلاح کی بات کرتی رہی ہے۔ چنانچہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے تحت سعودی حکومت کے اس بابت عملی قدم اٹھانا غیرمتوقع نہیں تھا۔ بلاشبہ سعودیوں اور غیرسعودیوں کے لئے ان انتخابات میں محدود مواقع ہیں لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ سعودی عرب جیسے ملک میں آپ انتخابات کو ایک دم آب رواں کی طرح جاری نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔ یہ درست ہے کہ اس مرتبہ کے اولین بلدیاتی انتخابات میں خواتین حصہ نہیں لے رہی ہیں لیکن سعودی حکومت اگلے انتخابات میں منظم طریقے سے خواتین کی شرکت کی بات کررہی ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم سعودی عرب کا مقابلہ مغرب سے کریں گے تو گویا خود کو ہی مشکل میں ڈالیں گے کیوں کہ حقیقت یہی ہے کہ سعودی عرب امریکہ یا کینیڈا تو نہیں بن سکتا۔۔۔ تاہم یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ سعودی عرب کی حکومتی کمیٹیوں میں خواتین بھی شامل ہیں اور منصوبہ بندیوں اور فیصلوں میں ان سے مشاورت بھی کی جاتی ہے۔۔۔۔ خواتین کو عزت اور تحفظ کے ساتھ انتخابات میں شامل کرنا زیادہ اہم ہے۔۔۔ یہاں زیادہ تر خواتین ایسی ہیں جن کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ انتخابات کس چڑیا کا نام ہیں۔ خواتین کو تو چھوڑیے یہاں مقامی مردوں کو بھی انتخابات کی شد بد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اسکول اور کالج کے طالب علم بھی انتخابات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے۔ البتہ ایک تعلیم یافتہ سعودی عورت انتخابات پر بات کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن یہ وہ سعودی خواتین ہیں جو ورکِنگ لیڈیز ہیں۔ یا پھر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بیرون ملک پڑھی ہوئی ہیں۔ یہ اعلیٰ عہدوں پر فائز بھی ہیں اور ان میں اعتماد ہے۔ چنانچہ وہ خوبی سے اپنا نظریہ پیش کرنے کی اہل ہیں۔
مثال کے طور پر خاتون صحافی اعمال باصواد کہتی ہیں کہ ’اسلام میں خواتین اپنے خاندان ہی نہیں بلکہ ملک کی خدمت بھی کرسکتی ہیں اور ذاتی و ملی تعاون پیش کرسکتی ہیں۔ افسوس کہ عوامی سطح پر کچھ لوگ غلط نظریات کے تحت خواتین کو پیچھے دھکیلنے اور ان کو ذاتی ذہنی بدحالی اور پسماندہ سوچ کا نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں یہ ایک بہت اچھا قدم ہیں۔ اگر ان انتخابات میں بھی خواتین حصہ لیتیں تو اور بھی خوشی ہوتی۔‘ دیگر خواتین صحافی بھی ان انتخابات سے مثبت اقدامات کی پیشین گوئی کرتی ہیں اور آنے والے وقت سے پرامید نظر آتی ہیں۔ ماہر سماجیات اور صحافی آفراح عطاس جو سعودی ٹی وی پر خواتین کے کئی پروگرام پیش کرتی ہیں، کہتی ہیں: ’مجھے اپنے ملک کو جمہوریت کی راہ پر بڑھتا ہوا دیکھ کر فخر محسوس ہورہا ہے۔ انتخابات شفاف ہیں۔ خواتین کو بھی آگے چل کر باقاعدہ منصوبہ بندی اور انتظام کے بعد موقع ملے گا اور اس کے لئے ہمیں کئی جلدی بھی نہیں ہے۔‘ البتہ کِنگ سعود یونیورسٹی ریاض میں خواتین کی تاریخ کی پروفیسر ھثون الفاسی بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی شمولیت نہ ہونے پر ناراض ہیں۔ وہ کتہی ہیں: ’جب اگلے انتخابات میں خواتین کو حق دیا جائے گا تو اس وقت تک مرد ہم سے پہلے کا تجربہ رکھ چکے ہوں گے۔ اس طرح وہ تو فائدے میں رہیں گے۔۔۔‘ ان بلدیاتی انتخابات نے سعودی خواتین پر کم سے کم اتنا واضح کردیا ہے کہ ان کی حکومت آئندہ انتخابات میں باقاعدہ منظم منصوبہ بندی کے بعد ان کو انتخابات میں ووٹنگ کا حق دے گی۔ چنانچہ خواتین اپنی حکومت پر بھروسہ کرتی ہیں کہ ان کو ان کا حق ضرور دیا جائے گا۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت قارئین کے خیالات شائع کیے جاتے ہیں جن سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||