سعودی عرب میں تاریخی الیکشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک بھر میں میونسپل سطح پر کروائے جانے والے الیکشن جمعرات کو شروع ہوگئے ہیں۔ ان انتخابات کو سعودی بادشاہت میں جمہوریت کو متعارف کروانے کے سلسلے میں ایک قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یہ الیکشن جمعرات کی صبح دارلحکومت ریاض میں شروع ہور ہے ہیں اور اگلے تین ماہ کے عرصے تک ملک بھر میں مختلف مقامات پر کروائے جائیں گے۔ پورے ملک کی 178 کونسلوں کے لئے 592 سیٹوں پر 1800 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں لیکن خواتین کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے اور ریاض میں ووٹ ڈالنے کے قابل چار لاکھ مردوں میں سے صرف ایک لاکھ اڑتالیس ہزار ووٹر رجسٹر ہوئے ہیں۔ ریاض میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کِم غطاس کے مطابق اگرچے ساٹھ کی دہائی سے تک چند شہروں میں کسی نہ کسی شکل میں سعودی عرب میں الیکشن ہوتے تھے لیکن یہ انتخابات اس بادشاہت کی تاریخ میں بہت اہم ہیں۔ ان کونسلوں کے اختیارات ابھی تک واضح نہیں ہیں اور اب بھی ان کے آدھے ارکان کو پہلے کی طرح نامزد کیا جائے گا۔ یہ انتخابات پہلے کئی مرتبہ منسوخ کئے جاتے رہے اور پھر ان افواہوں کی لپیٹ میں بھی آئے کہ خواتین بھی ان میں شرکت کر سکیں گی۔ تاہم حکام نے بعد میں واضح کردیا کہ ایسا نہیں ہوگا لیکن وعدہ کیا کہ 2009 کے الیکشن میں خواتین زیادہ اہم کردار ادا کرسکیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||