BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 October, 2004, 18:33 GMT 23:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان کا خوف اور ریال

سپیشل فورسز کی نظریں اور چیک پوائنٹ اب روزکا معمول بن چکے ہیں۔
سپیشل فورسزکی نظریں اورچیک پوائنٹ اب روزکا معمول بن چکےہیں
سعودی عرب میں انتیس نومبر کی یادیں آج بھی الخبر کے لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں جب دہشت گردوں نے کچھ لوگوں کو ناحق موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ثمن علی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو تب اس واقعے کی تفصیلات لکھ کر بھیجی تھیں۔ اس کہانی میں وہ بتاتی ہیں کہ اس سانحے نے الخبر شہر پر کیا داغ چھوڑے ہیں۔


’انتیس نومبر کے سانحہ کو چار ماہ گزر چکے ہیں لیکن اس کے اثرات اب بھی شہر میں ہر طرف نظر آتے ہیں۔ شہر کی ہر گلی پر کھڑی پولیس کی گاڑیاں، کاروں میں سوار لوگوں کو گھورتی ہوئی سپیشل فورسز کی نظریں اور چیک پوائنٹ، اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔ گھروں کے ارد گرد کھڑی آہنی دیواریں، ہسپتالوں اور شاپنگ مالز میں پولیس اور آگ بجھانے کے سلنڈر ابھی تک عام نظر آتے ہیں اور لوگ کسی حد تک ان کے عادی بھی ہو چکے ہیں۔‘

’اس کے باوجود اب بھی بہت سے مکین روز صبح گھر سے نکلنے سے پہلے خبروں کی شہ سرخیاں ضرور سن لیتے ہیں۔‘

کیا معلوم
 میں اقامہ ( یعنی ورک پرمٹ کہ جس پر کنبے کے افراد کا اندراج ہوتا ہے) کی ایک کاپی ہمیشہ اپنے بیگ میں رکھتی ہوں۔ معلوم نہیں کب پولیس کو دکھانا پڑ جائے۔

کل صبح میں اور میری کچھ عرب پڑوسنیں خریداری کی غرض سے کمپاؤنڈ کی بس میں سوار ہوئیں۔ میری عادت ہے کہ میں اقامہ ( یعنی ورک پرمٹ کہ جس پر کنبے کے افراد کا اندراج ہوتا ہے) کی ایک کاپی ہمیشہ اپنے بیگ میں رکھتی ہوں۔ معلوم نہیں کب پولیس کو دکھانا پڑ جائے۔

ہماری گفتگو فلسطین میں ہلاک ہونے والے بچوں سے شروع ہو کر پاکستان انڈیا میں بولی جانے والی زبانوں تک پہنچی ہی تھی کہ ڈرائیور نے اچانک بریک لگائی۔ ہم نے فوراً باہر دیکھا اور ساتھ ہی اپنے سروں پر سکارفوں کو مضبوط کر لیا۔ہم ایک چیک پوائنٹ پر رکے ہوئے تھے۔

پہلے ایک سپاہی نے بس کے چاروں طرف گھوم کر اچھی طرح معائنہ کیا کہ کہیں بس کے نیچے بم تو نہیں لگا ہوا۔

کچھ دیر بعد ایک افسر نے بس کا دروازہ کھولا اور بڑے ادب کے ساتھ سلام کرنے کے بعد عربی میں کچھ کہا۔میری فلسطینی ہمسائی نے مجھ سے انگریزی میں پوچھا کہ کیا میرے پاس شناخت کے کاغذات ہیں۔ میں نے اقامہ کی کاپی نکال کر افسر کی حوالے کر دی۔ پھر اس نے میری دونوں پڑوسنوں سے عربی میں کچھ کہا جس پر ان دونوں نے گھبرا کر کلمہ پڑھ ڈالا۔

News image
شناخت
 افسر کہہ رہا تھا کہ اقامہ کی کاپی ضرور پاس رکھا کرو تا کہ حادثہ کی صورت میں شناخت ہو سکے۔

چونکہ میں ابھی تک عربی سیکھ رہی تھی اور مجھے افسر کی بات سمجھ نہیں آئی تھی اس لیے میں نے نوحہ سے کہا کہ وہ مجھے انگریزی میں بتائے کہ افسر نے ان سے کیا کہا تھا۔ نوحہ نے کہا کہ افسر کہہ رہا تھا کہ اقامہ کی کاپی ضرور پاس رکھا کرو تا کہ حادثہ کی صورت میں شناخت ہو سکے۔

یعنی اب گھر سے نکلنا ہتھیلی پر جان رکھنے کے مترادف ہو گیا ہے۔

ہر روز کسی نہ کسی مغربی باشندے کی ہلاکت کی خبر ٹی وی یا اخبار میں دیکھنے کو ضرور ملتی ہے لیکن بہت سے لوگ اب بھی نارمل نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کچھ دن پہلے ایک بڑے شاپنگ مال کے کھانے والے حصے میں سفیدفام لوگوں کی خاصی بڑی تعداد کھانا کھاتی دکھائی دی۔ ہمارے ایک عزیز نے، جو وہاں پراپنی فیملی کے ساتھ گئے ہوئے تھے، رکے رہنا مناسب نہیں سمجھا اور کھانا لےکر مال سے باہر چلے گئے۔

یہی نہیں بلکہ الخوبر کے ایک انٹرنیشنل سکول کی ایک استانی کے بقول ان کی ایک ہندو ساتھی نے ان سے کہا کہ وہ کلمہ سیکھنا چاہتی ہیں۔ بھئی جان کس کو پیاری نہیں ہوتی؟

جان پیاری
 ایک انٹرنیشنل سکول کی ایک استانی کے بقول ان کی ایک ہندو ساتھی نے ان سے کہا کہ وہ کلمہ سیکھنا چاہتی ہیں۔ بھئی جان کس کو پیاری نہیں ہوتی؟

جـہاں پر بہت سے مغربی لوگ اپنے ملکوں کو واپس چلے گئے ہیں وہاں پر بہت سے اپنے خوف کو چھپا کر ریال کمانے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ سویٹزرلینڈ کی ایک فیملی کے مطابق ان کو ابھی تین سال مزید سعودی عرب میں رکنا ہے تا کہ وہ اپنے گھر کی تعمیر کے لیے پیسہ کما سکیں۔

کچھ دن پہلے ہم ایک دعوت سے رات کے وقت واپس آ رہے تھے جب ہم نے دیکھا کہ ایک دبلا پتلا سفیدفام شخص جاگنگ کر رہا تھا۔

جی چاہا کہ گاڑی روک کر اس کی ہمت کی داد دی جائے مگر پھر خیال آیا کہ اس کو نظرانداز کرنے میں ہی بہتری ہے۔

ارامکو شہر میں ایک کینیڈین میاں بیوی نے سعودی عرب کا قومی پرچم خوب مضبوطی سے اپنے گھر کے باہر لگا لیا ہے۔ اسی طرح ایک کافی مارننگ میں ایک معمر ہندو خاتون حاضرین کو بتا رہی تھیں کہ کیسے جب ان کے گھر کے باہر پانی کے ٹینکر آپس میں ٹکرانے سے دھماکہ ہوا تو سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ ان کا وقت آن پہنچا ہے۔

پتہ نہیں یہ صورتِ حال کب بدلے گی اور اس کے لیے کون سی دعا کی جائے؟

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد