’ماہرین کا تبادلہ ضروری ہے ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ عبداللہ نے کہا ہے کہ اسلحہ اور منشیات کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے عالمی مسائل پر قابو پائے بغیر دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ شہزادہ عبداللہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دہشت گردی کے خلاف چار روزہ کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے ایک بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی سنٹر قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے معلومات اور ماہرین کا تبادلہ کیا جا سکے۔ دہشت گردی کے خلاف ہونے والی اس کانفرنس میں پچاس سے زیادہ ممالک کے وفود شریک ہیں۔ سعودی عرب جو کہ مئی 2003 سے دہشتگردی کے مختلف واقعات کا شکار رہا ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو مشتبہ افراد کے بنک اکاؤنٹوں کی چھان بین کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہے۔ اس کانفرنس میں امریکی وفد کی قیادت صدر کے داخلی سکیورٹی کے مشیر فرانسس ٹاؤنسنڈ کر رہے ہیں۔ دیگر شرکاء میں برطانوی ایم آئی فائیو کی سربراہ علیزا بلر اور اقوامِ متحدہ اور انٹرپول کےماہرین بھی شامل ہیں۔ اس کانفرنس کے موقع پر ریاض میں شدید حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||