سعودی عرب میں فارن ہائیٹ کی تپش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں لوگ سنیما دیکھنے کی صرف حسرت ہی کر سکتے ہیں۔ فلموں کی ڈی وی ڈی، سی ڈی اور ویڈیوز مل تو جاتے ہیں مگر سینسر بورڈ سے گزرنے کے بعد وہ تمام دکانیں جو سعودی حکومت کی اتھورائزڈ کمپنی سے پاس کی ہوئی فلموں کے علاوہ فلمیں فروخت کرتی ہیں وہ غیر قانونی قرار دی جاتی ہیں اور ان میں تالہ لگا دیا جاتا ہے۔ لیکن ان سب اقدامات کے پیچھے سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ اور مدینہ شریف کے احترام میں یہاں کوئی ایسی چیز جس میں عریانیت ہو عام نہیں ہوتی۔ ریاض سے تقریباً تین سو پچاس کلو میٹر دور مشرقی صوبے کا شہر خوبر’ کاز وے‘ یعنی سمندر پر بنے پل سے سعودی عرب کو بحرین کی چھوٹی سی ریاست سے جوڑتا ہے۔ یہ پل سعودی اور دوسری تمام قوموں کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ جمعرات کی چھٹی والے دن لوگ بڑے آرام سے گاڑی کے ذریعے بحرین جا کر فلمیں دیکھتے ہیں۔ جہاں بچے آج کل ’ہیری پوٹر اینڈ دی پرزنر آف آزکابان‘ دیکھنے کی ضد کر رہے ہیں وہیں بڑے فارن ہائیٹ 11/9 دیکھنے جا رہے ہیں۔مائیکل مور کی فارن ہائیٹ 11/9 نے پوری دنیا میں تہلکا مچایا ہوا ہے اور اب فارن ہائیٹ کی گرمی سعودی عرب میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کے انگریزی روزنامے عرب نیوز کے ایڈیٹر خالد الماعینہ کا کہنا ہے کہ گو سعودی عرب میں سنیما ہال نہیں ہیں مگر یہ فلم ڈی وی ڈی اور وڈیو پر ہر جگہ موجود ہے اور سعودی باشندوں کی ایک بڑی تعداد اس کو دیکھ چکی ہے۔ ان کے خیال میں مائیکل مور کو اب دوسری فلم اسرائیل اور فلسطین پر بنانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فلم کو صرف ’اینٹی بش‘ ہی کہا جا سکتا ہے۔ سعودی لوگوں کا خیال تھا کہ اس فلم میں یقیناً یہودیوں اور فلسطینیوں کا بھی ذکر ہوگا مگر مائیکل مور نے اس نقطے کو بالکل نظر انداز کیا ہے جو مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے لیے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ جہاں بش کے دور کے اہم واقعات کا ذکر ہے وہاں اس آہنی دیوار کا کوئی ذکر نہیں جس کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ روز کتنے فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ناحق مارے جاتے ہیں ان کا شائبہ بھی اس فلم میں نہیں۔یہ سوال مائیکل مور سے ضرور کرنا چاہیے۔ کچھ دن پہلے اردن کے ایک خاندان سے ملاقات ہوئی تو خاتون کے میاں نے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ ابھی ابھی بحرین سے آ رہے ہیں اور وہاں انہوں نے فارن ہائیٹ دیکھی۔ جس کے لیے ان کو’ کازوے‘ پر قریباً دو گھنٹے بحرین میں داخل ہونے کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ فلم کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے تو انہوں نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں جواب دیا ’اٹس گوڈ‘ یعنی بہت اچھی ہے۔ دو ہفتے پہلے ایک شام کے شو میں سنیما ہال میں نظر دوڑائی تو سعودی، بحرینی اور انگریز سبھی نظر آئے۔جہاں تھوبی میں ملبوس مرد تھے وہاں آبایہ اور سر سے پاؤں تک ڈھکی خواتین بھی شامل تھیں۔ پوپ کارن، ناحوس اور پیپسی سے لیس۔ اور تقریباً ہر عمر کے افراد ہال میں فلم کا انتظار کر رہے تھے۔ شاید یہ امریکہ کی پہلی دستاویزی فلم ہے جس نے مشرق وسطیٰ تک کا سفر طے کیا ہے۔ اور تقریباً ہر گھر میں ہی اس کا ذکر ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کویت نے فلم پر پابندی لگادی ہے اور ان کے ایک نمائیندے کا کہنا ہے کہ وہ ایسی کوئی چیز جس میں ان کے برادر اور دوست ملک کی بے عزتی کی گئی ہو اس کی نمائیش کی اجازت نہیں دیں گے۔ مگر بحرین نے ابھی ایسا کوئی ایکشن نہیں لیا ہے۔ سعودی عرب میں مقیم ایک امریکی جو فلم کی ڈی وی ڈی امریکہ سے لے کر آئے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ فلم صرف ڈیموکریٹس کا پروپیگنڈا ہے اور کچھ نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ لوگ شائد ہی اپنا فیصلہ جان کیری کے حق میں دیں گے۔ کیوں؟ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’میں اس شیطان کو ووٹ دوں گا جس کو میں جانتا ہوں بنسبت اس شیطان کے جس کو میں نہیں جانتا‘۔ خوبر میں رہنے والے جنوبی افریقہ کے ایک باشندے کا کہنا ہے کہ میں نے آج تک کسی امریکی انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں لی مگر اس فلم کی وجہ سے یہ پہلا الیکشن ہوگا جس کے بارے میں جاننا چاہوں گا۔ آج کل وہ ایک دوست کی منت کر رہے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ بحرین فارن ہائیٹ دیکھنے چلے۔ کچھ دن پہلے انگلینڈ میں سعودی عرب کے سفیر ترک الفیصل نے بیان دیا کہ مائیکل مور نے جو کچھ سعودی عرب کے بارے میں دکھایا ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مائیکل مور کو تحقحق کرنے سعودی عرب آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مائیکل مور کو سعودی عرب کا ویزا بھی مل گیا تھا مگر انہوں نے آنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ فلم کے بارے میں لوگ تو آپس میں ضرور تبادلہ خیال کرتے ہیں مگر سعودی اخبارات میں اس فلم کی کوئی خاص’ کوریج‘ نہیں ہے۔ پچھلے دو ماہ میں صرف تین مختصر خبریں آئیں جن میں پرنس ترکی کا بیان اور کویت کی پابندی شامل ہیں۔ مگر اس فلم کے بارے میں لوگوں میں خاصہ تجسس پایا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ سعودی عرب میں فارن ہائیٹ 11/9 لوگوں کی امیدوں پر پوری نہیں اتری۔ ان کی اس فلم سے اور توقعات تھیں۔ کیا مائیکل مور کی اگلی فلم ان کو پورا کر سکے گی؟ اس کا جواب خود مائیکل ہی دے سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||