میری رائے: ویلنٹائن ڈے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چودہ فروری کو دنیا کے بیشتر ملکوں میں ویلنٹائن ڈے منانے کا رواج آج کل عام ہے اور اس سلسلے میں بیشتر شہروں میں نوجوان اسے تہوار کی طرح منانے لگے ہیں۔ اس بارے میں میرے خیالات مختلف ہیں۔ ایک، میری رائے میں یہ ضروری نہیں ہے کہ چودہ فروری کو ہی اپنے پیار کا اظہار کیا جائے۔ کسی اور دن بھی آپ محبت کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اور اگر ہمیں ایسا کرنا ہی ہے تو شیریں فرہاد یا لیلیٰ مجنوں کے نام پر کیوں نہ کریں؟ دو، یہ ضروری نہیں ہے کہ پیار کا اظہار ڈنکے کی چوٹ پر کیا جائے۔ ہمیں اپنی تہذیب کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ کالجوں میں سینیئر طالب علموں اور اساتذہ کے سامنے ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہے کیوں کہ اساتذہ کا احترام نہیں ہوتا اور اساتذہ بھی طالب علموں کی عزت کرنا بند کردیتے ہیں۔ تین، ہماری زندگی پر ہم سے کہیں زیادہ حق ہمارے والدین کا ہے کیوں کہ اللہ تعالی نے ہمیں جو زندگی عطا کی ہے یا یہ کہیں کہ دنیا میں ہمارا جو وجود ہے وہ والدین کی وجہ سے ہے اور ہمیں ان کی مرضی سے شادی کرنی چاہئے۔ چار، میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص کا اپنا اپنا حق ہوتا ہے۔ لیکن اپنی خواہش کی خاطر اپنے والدین کی مرضی کے خلاف نہیں جانا چاہئے۔ کیا دنیا میں ایک ہی چیز کا نام پیار ہے؟ والدین کا پیار پیار نہیں ہے؟ ویلنٹائن ڈے کے نام پر لڑکے لڑکیاں والدین کی عزت کرنا بھول جاتے ہیں۔ پانچ، اگر ہم واقعی ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں تو ہم اسلام کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ویلنٹائن ڈے کی وجہ سے ہمارے اسلامی پہچان کو نقصان پہنچتا ہے۔ چھ، اگر آپ کو محبت ہوجائے تو اپنے والدین سے اس بارے میں گفتگو کریں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے والدین ضرور آپ کی بات کا احترام کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سوچ اور اچھی باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کینیڈا کے شہر واٹرلو سے ویلنٹائن ڈے کے حق میں کرن جبران کا مراسلہ حسب ذیل ہے ایک، ویلنٹائن ڈے ایک ایسا دن ہے جس روز آپ جسے پیار کرتے ہیں اس کی جانب اپنے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک دن کافی نہیں ہے۔ ویلنٹائن ڈے ہر روز ہونا چاہئے اور سال کے تین سو پینسٹھ دن ہونا چاہئے۔ پیار کا اظہار آسان نہیں ہے اور کافی وقت لگتا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ کسی کو پوری عمر لگ جائے۔ دو، ویلنٹائن ڈے صرف ایک شخص کے لئے نہیں ہے جس سے آپ پیار کرتے ہیں۔ یہ ان تمام افراد کے لئے ہونا چاہئے جن سے آپ کو پیار ہے۔ یہ افراد آپ کے والدین، بھائی، بہنیں، دوست یا رشتہ دار ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ محبت صرف ایک شخص کے لئے نہیں ہوتی ہے۔ اگر ویلنٹائن ڈے پیار کے اظہار کا دن ہے تو اس میں ان تمام لوگوں کو کیوں نہ شامل کریں جن سے آپ محبت کرتے ہیں؟ تین، ویلنٹائن ڈے صرف ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جن سے آپ کو محبت ہے۔ ویلنٹائن ڈے ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ کبھی ہم کسی شخص کو جانتے ہیں جو ہم سے محبت کرتا ہے لیکن ہم اسے محبت نہیں کرتے۔ ہمیں کم سے کم ان کے احساسات کی قدر کرنی چاہئے اور ویلنٹائن ڈے کو انہیں ہماری زندگی میں جگہ ملنی چاہئے۔ کم سے کم ہم ان کی تعریف کریں کہ وہ ہم سے محبت کرتے ہیں۔ چار، ویلنٹائن ڈے کا نام ہونا چاہئے: ’’یوم انسانیت: سب کے لئے پیار، نفرت کسی کے لئے نہیں‘‘۔ ویلنٹائن ڈے تمام انسانیت کے لئے ہے۔ اگر آپ یقین کرتے ہیں تو اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں، ہر شخص سے جسے آپ محبت کرتے ہیں۔ ہم ہر شخص جو زندہ ہے اس کا کوئی نہ کوئی قریبی ضرور ہے جس سے پیار کا اظہار کیا جانا چاہئے۔ اس لئے اسے یوم انسانیت کہا جائے۔ پانچ، ہمیں ویلنٹائن ڈے کو یوم انسانیت کے طور پر منانا چاہئے کیوں کہ انسانیت اسلام کا پیغام ہے۔ انسانوں سے محبت اور انسانیت اسلام کی بنیادی تعلیمات ہیں۔ لہذا اسے یوم انسانیت کے طور پر منانے میں ہمیں پہل کرنی چاہئے۔ چھ، ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیمات کو پھیلائیں۔ آج کل دنیا کو معلوم نہیں کہ اسلام کیا ہے۔ ایک اچھے مسلمان ہونے کے لئے پہلے اچھا انسان بنناضروری ہے۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت قارئین کے خیالات شائع کیے جاتے ہیں جن سے بی بی سی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||