’ہکلاہٹ پر ڈیپریشن کی دوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیتھ گلبرٹ اپنے مضمون ’ہکلاہٹ: فسانہ یا حقیقت‘ میں لکھتے ہیں کہ ہکلاہٹ کے مرض کی ماھر کیتھرین منٹگمری کا ایک مریض ہکلانے کے ساتھ ساتھ نابینا بھی تھا۔اس سے کسی نے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا چیز اس کی زندگی میں زیادہ مشکلات پیدا کر رہی ہے، اس کا نہ دیکھ سکنا یا ہکلانا؟ اس نے ایک لمحہ کے لیے سوچا اور بولا " ہکلاہٹ، کیونکہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ہکلانا میرے اختیار سے باہر ہے۔" آپ نہیں جانتے کہ یہ بات میرے اور مچھ جیسے کئی دوسرے لوگوں کے لیے کتنی جان فزا ہے کیونکہ ہکلاہٹ کے بارے میں اول تو لوگ زیادہ جانتے نہیں اور اگرکچھ جانتے ہیں تووہ زیادہ ترغلط ہے۔ میں انیس سواکاسی میں پیدا ہوا اور بولنے کے آغاز ہی سے ہکلاتا ہوں۔ ان دنوں میں ہکلاہٹ کا علاج قریباً نہ ہونے کے برابر تھا، چنانچہ میرے والدین نے مجھے ایک ماہراطفال کے ہاں لے جانا شروع کر دیا۔ماہراطفال نے مجھے افسردگی یا ڈیپریشن کی ادویات دینا شروع کر دیں۔ ان کے خیال میں شاید میرے ہکلانے کی وجہ افسردگی یا ملال تھا۔اس خیال میں وہ شاید اکیلے نہیں تھے کیونکہ کئی دوسرے لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہکلانے والے دانستہ طور پر دوسرے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ہکلاہٹ کا سہارہ لیتے ۔بہرحال تقریبًا پانچ سال کی عمر میں مجھے سکول داخل کرا دیا گیا۔
میرے سکول شروع کرنےسے اس اذیت ناک دور کا آغاز ہوتا ہے جس نے مجھے احساس دلایا کہ میں باقی لوگوں سے مختلف ہوں۔ دوسرے بچوں کا میری اس کمزوری کو بھانپ کر مزاق اڑانا اور کبھی کبھار اذیت پر اتر آنا میرے لیےایک دہشت ناک حقیقت ہوتی تھی۔ اساتذہ کو شکایت کرنے پر ان کا ہمدردانہ رویہ بھی میرے لیے کچھ زیادہ تسلی کا باعث نہ ہوتا تھا۔ بلکہ اکثر موقعوں پر تو اساتذہ کو یہ بتانا کہ دوسرے بچے مجھے ’ڈرپوک‘، ’بچہ‘ اور ’روندُو‘ کہتے ہیں مزید شرمندگی کا باعث بنتا۔ اسی طرح حالات بگڑنے پر والدین کا اسکول آنا بھی سود مند ہونے کی بجائے میری شرمندگی میں اضافہ ہی کرتا تھا کیونکہ دوسے بچوں سے یہ کہنا کہ میری ہکلاہٹ کا مذاق نہ اڑائیں بذاتِ خـود ایسی انوکھی درخواست ہوتی تھی کہ بچے اس کا بھی مذاق اڑائے بغیر دم نہ لیتے۔ میرے سکول کا زیادہ تر دور اسی طرح گزرا اور میں سکول سے چھٹیاں کرنے میں اول آتا رہا۔ نویں اور دسویں جماعتوں میں جب کہ میں او لیول میں تھا، میرے اٹکنے یا ہکلانے میں خاطرخواہ فرق پڑا اور کچھ عرصہ کے لیے تو میں بالکل ٹھیک ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب میں اسکول کا ’شائننگ سٹوڈنٹ‘ بن گیا۔ لیکن یہ دور ایک سال سے زیادہ عرصہ کا نہ تھا کیونکہ میں ایک سال کے بعد ہی دوبارہ اپنی پہلی، بلکہ اس سے بھی بری، حالت میں آ گیا اور زیادہ ہکلانے لگا۔
میں نے او لیول کے بعد تعلیم نہیں چھوڑی بلکہ پہلے اے لیول اور پھر کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کیا۔ مگر بی ایس سی تک میں اس قدر تھک چکا تھا کہ اس کے بعد پڑھائی چھوڑ دی۔ آج کل میں اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں شریک ہوں۔ عملی زندگی میں مشکلات اس طرح سے اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ آپ اکثر دوسروں کو اپنی بات نہیں سمجھا پاتے۔ یہ سچ ہے کہ بڑی عمر کے ’سلجھے‘ ہوئے لوگ بھی آپ کے ہکلانے، اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے چہرے اور جسم کے مختلف زاویوں سے ’الجھ‘ جاتے ہیں۔ بڑی عمر کے ہکلانے والے میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ وہ اپنی زندگی میں بہت سے خوابوں، امنگوں اور خواہشوں کو عملی جامہ اس لیے نہیں پہنا سکتے کہ وہ ہکلاہٹ کی وجہ سےمعاشرے میں ایک حلقہ اثر نہیں بنا سکتے۔ خدا کا شکر ہے کہ میری معاشی حالت نہایت مستحکم ہے ، لیکن میں ان ہکلانے والوں کی حالتِ زار کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں جن کو محض ہکلانے کی وجہ سے معاشی تنگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ’احساسات‘ کی جگہ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||