’میری پڑھائی کا کیا ہوگا؟‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم بلوچوں کے لیے بات بالکل صاف ہے کیونکہ ہماری تو زندگی ہی الٹ کر رہ گئی ہے۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ سترہ مارچ کا دن اتنی دہشت اور بے یقینی لائے گا۔ ایف سی کے استعمال کے لیے پانی مہیا کرنے والی پائپ لائن کیا کھلی، ایف سی اور مقامی قبائلی لوگوں ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیا۔ لڑائی میں نہ صرف بندوقیں استعمال ہو رہی تھیں بلکہ راکٹ اور ملٹی بیرل راکٹ بھی۔ ڈیرہ بگتی میں گھر اور بازار دونوں راکٹوں کی زد میں تھے۔ ایک دو نہیں، کئی بے گناہ لوگ راکٹوں اور گولیوں کا نشانہ بنے۔ ہمارے ڈیرہ بگتی کے افسر صحت بھی زخمی ہوئے۔فائرنگ سےسیکنڈری سکول کے ایک سٹوڈنٹ کے علاوہ ہڑتال میں حصہ لینے والے کئی دوسرے لوگ ہلاک ہو گئے۔ میرے خیال میں کم ازکم بیس لوگ مارے گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ قبائلیوں کی فائرنگ سےایف سی کےآٹھ جوان مارے گئے اور پچیس شدید زخمی ہوئے۔ یہ کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے، ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ لیکن میرے بڑے کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ سیاسی بات چیت اور انصاف سے حل ہو سکتا ہے۔ اس دن میں سیکنڈری بورڈ کا پریکٹیکل امتحان دے رہا تھا کہ اچانک گولہ باری شروع ہو گئی۔ لگ رہا تھا کہ راکٹ عین میرے سر پر گر رہے ہیں۔ سکول میں ایک لڑکامیرے سامنے مر گیا۔ اللہ بڑا مہربان ہے، میں بچ گیا۔ ہم بلوچ ہیں لیکن صدر مشرف اور دوسرے رہنماؤں کی نظر میں مجرم۔ مجھے بتائیں میرا جرم کیا ہے؟ اب خبر یہ ہے کہ ہمارے سردار نواب اکبر بگٹی نے حکم دیا ہے کہ مجھ جیسے عام شہری آج تین بجے سے پہلے ڈیرہ بگٹی سے چلیں جائیں۔ ہم یہ شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں کیونکہ سردار کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے جنگ کریں گے۔ آخر ہمارا کیا قصور ہے کہ ہمیں اپنا گھر چھوڑ کر جانا پڑے۔ مجھے نہیں پتا میرا کیا ہوگا۔میں اس جنگ میں مارا جاؤں گا؟ اگر بچ گیا تو میری پڑھائی کا کیا ہوگا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||