BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 January, 2005, 17:24 GMT 22:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں نے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُترتے دیکھا‘
 آشوٹز میں یتیم بچے
آشوٹز میں بہت سے بچوں کو یتیم کر دیا گیا۔
79 سالہ بیٹشیوا دیگان پولینڈ کے شہر لوڈز میں پیدا ہوئیں۔ نازیوں کے قبضے کے بعد انہیں اور ان کے والدین کو ان کیمپوں میں بھیج دیا گیا جن میں نازیوں نے یہودیوں کو محدود کر رکھا تھا اور جن کے لیے ’گھیٹوز‘ کا لفظ بنا۔

ان کے دو بڑے بھائی اور ایک بہن روس بھاگ گئے۔ ان کی ایک دوسری بہن کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اس کیمپ سے بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔

جب ان کیمپوں کا خاتمہ ہوا تو ان کے والدین کو ’ٹریبلنکا ڈیتھ کیمپ‘ بھیج دیا گیا اور وہاں انہیں قتل کر دیا گیا۔ خود بیٹشیوا دیگان کو آشوٹز بھیج دیا گیا۔ یہ ان کی کہانی ہے۔


’ آشوٹز بھیجے جانے سے پہلے میں اس جگہ کے متعلق کچھ نہیں جانتی تھی۔

وہاں مجھے ایک خوش وخرم لڑکی سے ایک قیدی میں بدل دیا گیا۔ انہوں نے میرے بازو پر ٹیٹو بنائے، مجھے گنجا کیا، میرے کپڑے لے لیے اور مجھے قیدیوں کے لیے مخصوص چیتھڑے دے کر کام پر بھیج دیا۔

 بیٹشیوا دگان
بیٹشیوا دگان نے آشوٹز میں بیس ماہ گزارے

ہم سے محتلف سکواڈز میں کام کروایا جاتا تھا۔ سب سے بدترین سکواڈ جس کے ساتھ مجھے کام کرنا پڑا وہ تھا ’واکنگ ٹائلیٹ‘۔ مجھے بیت الخلاء کے گرد چکر لگا کر بالٹیوں میں گند اکٹھا کرنا ہوتا تھا۔

مجھے ٹائفس ہو گیا۔ میں خوش قسمت تھی کہ ایک دن مجھے میری ایک کزن مل گئی جس کا شوہر ڈاکٹر تھا۔ وہ مجھے ملیریا کے ہسپتال لے گئی۔

وہاں مجھے ’سلیکشن‘ کے تجربے سے گزرنا پڑا جس میں افسر لڑکیوں کو برہنہ کر کے دیوار کے ساتھ ایک قطار میں کھڑا کر دیتے تھے۔

مجھے بری قسم کی خارش تھی اور میرے پورے جسم سے خون رستا تھا مگر افسروں نے مجھے بخش دیا۔ باقی لڑکیوں کو چُن چُن کر گیس کے چیمبر میں بھیج دیا گیا۔

سلیکشن
 وہاں مجھے ’سلیکشن‘ کے تجربے سے گزرنا پڑا جس میں افسر لڑکیوں کو برہنہ کر کے دیوار کے ساتھ ایک قطار میں کھڑا کر دیتے تھے۔

کناڈا سکواڈ وہ آخری سکواڈ تھا جس میں میں نے کام کیا جو کہ کریماٹوریم نمبر 4 کے قریب قائم تھا۔

وہاں ہمیں ان لوگوں کے سامان کی تلاشی لینی ہوتی تھی جو مر چکے تھے۔ ہمیں ایسے سوٹ کیسوں کو جلا دینے کا حکم تھا جن پر کیمپوں میں موجود لوگوں کے گھروں کا پتہ ہوتا تھا۔

میں نے وہاں بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اُترتے دیکھا۔ نازی آفسر ان کو برہنہ کر کے ان کا پیچھا کرتے اور ان پر زائکلون بی گیس چھوڑ دیتے۔

گیس کے پھیلاؤ کے دوران میں نے بیس منٹ تک چیخ و پکار سنی اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ پھر لاشوں کو باہر پھینک دیا جاتا۔

یہ ہر وقت کا معمول تھا۔ 1943 اور 1944 کےان دو سالوں میں میں نے وہاں بہت قتلِ عام ہوتے دیکھا۔

صرف یہودی ہی نہیں بلکہ انہوں نے جپسی، پولز، سوویت، ہم جنس پرستوں اور بیماروں کا بھی قتل کیا۔ اپاہج لوگ مرنے والوں میں سب سے پہلے تھے۔

میں نے آشوٹز میں بیس ماہ یا چھ سو دن گزارے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اتنے دن، ہر دن میں چوبیس گھنٹے بے چین رہتی تھی اور ہر لمحہ یہ خیال آتا تھا کہ میری باری کب آئے گی؟

تاہم میں نے اس بات کا یقین رکھا کہ میں زندہ رہوں گی اور اسی یقین نے میری بہت مدد کی۔

کیمپ میں آٹھ اور لڑکیاں بھی تھیں جن سے ہمارا لگاؤ ایک عارضی کنبے کی حیثیت اختیار کرگیا۔ میں بہت حد تک ان کے سہارے کی وجہ سے بھی زندہ رہی۔ یہ لڑکیاں بھی اپنے خاندان والوں کو کھو چکی تھیں اور ایک گروہ کی صورت میں ہم ایک دوسرے کی مدد کرتی رہیں۔

جب جنوری 1945 میں سوویت فوج نے آشوٹز کی جانب پیش رفت شروع کی تو ہم میں سے ہزاروں کو کیمپ میں سے موت کی مارچ پر لے جایا گیا۔

یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ سردی بہت تھی اور جو مارچ نہیں کر سکتا تھا اسے سر میں گولی مار دی جاتی تھی۔ ان میں سے جو بچ گئے انہیں ٹرین پر پہلے ریونسبروخ اور پھر مالخاؤ لے جایا گیا۔ مجھے پھر لبز کی جانب مارچ کرنے کو کہا گیا جہاں خوش قسمتی سے امریکیوں نے ہمیں آزاد کروالیا۔

آج ساٹھ سال بعد جو کچھ ہوا اس پر یقین کرنا مشکل ہے۔ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

آشوٹز

میں نے تب سے اپنے آپ کو نوجوانوں کو اس سفاکی کے خلاف تعلیم دینے کے لیے وقف کر دیا ہے اور امید کرتی ہوں کہ مستقبل میں انسانیت اس قسم کے رویوں کو نہیں اپنائے گی۔

پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ایک جیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک ذاتی جیت اور ایک عام سی جیت کا احساس۔ ہم سب کو موت کے منہ میں ڈال دیا گیا تھا لیکن اتنا سب ہونے کے باوجود ہم سب آج زندہ ہیں۔

باقی کی لڑکیاں مختلف ممالک کی طرف چلی گئیں، جبکہ ہم میں سے کچھ اسرائیل آگئیں۔

موت اور زندگی کا مرحلہ
 یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ سردی بہت تھی اور جو مارچ نہیں کر سکتا تھا اسے سر میں گولی مار دی جاتی تھی۔

میں جب آج سوچتی ہوں تو یقین نہیں آتا کہ 2005 آگیا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ہم بچ کر یہاں تک پہنچ جائیں گے؟ میں نے شادی کی اور میرے دو بیٹے اور دس پوتے پوتیاں ہیں۔

اس وقت سے لے کر اب تک میں چار مرتبہ آشوٹز جا چکی ہوں۔

میں آج ساٹھ برس مکمل ہونے پر اس وقت کو اپنے ان ساتھیوں سےجو میرے ساتھ تھے، بات چیت کر کے اور بہت خوشی اور گہرے غم کے ساتھ یاد کروں گی۔

خوشی اس بات کی کہ میں بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور دکھ اس بات کا کہ میں نے اپنے خاندان کو کھو دیا اور بہت سے لوگوں نے بھی نقصان اُٹھایا۔‘

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
آپ بیتی: چیچنیا کے باشندوں کی زندگیجنگ کےدس سال
چیچنیا کے باشندوں کی زندگی پر جنگ کے اثرات
بحر ہند طوفان’میرا بھائی مر گیا‘
’کپڑے کے نیچے سے ایک منا سا پاؤں باہر تھا‘
سونامی کی کہانیاںسونامی کی کہانیاں
’اب وہاں صرف کھلونے تیرتے دکھائی دیتے ہیں‘
ڈاکٹر راشا عبدارحمٰنامن کی امید میں
’لوگ قابلِ علاج بیماریوں سے مررہے ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد