BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 January, 2005, 20:00 GMT 01:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تمام پیسہ جنگ پر خرچ ہورہا تھا‘
ڈاکٹر راشا عبدارحمٰن
راشا امید کرتی ہیں کہ اس امن کا اثر مغربی سوڈان میں دارفر تک ہوگا۔
سوڈان کی حکومت اور جنوب میں باغیوں کے مابین تاریخی امن سمجھوتہ ہو گیا ہے۔ اس موقع پر ہم نے سوڈان کے بیرون ملک مقیم شہریوں سے ان کے وطن واپس لوٹنے کے ارادوں سے متعلق بات چیت کی۔ یہ کہانی ڈاکٹر راشا عبدارحمٰن برطانیہ میں مقیم ہیں۔


’میں آج کل اپنے پسندیدہ سوڈانی گلوکار محمد واردی کو بہت سن رہی ہوں۔ ان کے گیت سوڈان کی خوبصورتی اور دولت پر ہوتے ہیں اور مجھے میرے گھر کی بہت یاد دلاتے ہیں۔ میرا گھرانہ نوبیان ہے جس کا تعلق سوڈان کے شمالی علاقے سے ہے لیکن میری پیدائش مشرق میں واقع میری والدہ کے آبائی شہر القدرف میں ہوئی۔

میں بہت چھوٹی تھی جب ہم اپنے والد کے کام کی وجہ سے متحدہ عرب امارات منتقل ہوگئے۔ ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں واپس جاتے اور وہاں کچھ وقت والدہ کے خاندان والوں کے ساتھ اور باقی کا وقت خرطوم میں والد صاحب کے خاندان والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔

مجھے خانہ جنگی کے بارے میں پتہ تھا لیکن میں کبھی براہ راست اس کی زد میں نہیں آئی۔

بہت عرصے بعد مجھے یہ اندازہ ہوا اور میں سمجھ سکی کہ یہ جنگ کس طرح سے اس ملک پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

سکول ختم کرنے کے بعد میں خرطوم میں واقع اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی سے میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے واپس سوڈان لوٹ گئی۔

عرب امارات کے مقابلے میں سوڈان میں تعلیم سستی تھی لیکن میں اپنے ملک کے بارے میں بھی جاننا چاہتی تھی اور وہاں زندگی گزارنے کا تجربہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔

اس ترقی پزیر ملک میں میڈیسن کی تعلیم کے دوران میں معاشرے میں مختلف درجہ بندیوں سے آشنا ہوئی۔ میں نے نہایت امیر اور بہت ہی زیادہ غریب لوگوں کو دیکھا۔

اس کے علاوہ یہ ایک حقیقت تھی کہ جنگ نے ملک کو دو حصوں میں بانٹ دیا تھا۔

میں نے تعلیم کے دوران خرطوم کے ہسپتال میں کام کیا۔ وہاں سہولیات کا شدید فقدان تھا اور ہر چیز نہایت گندی تھی۔ لوگ ایسی بیماریوں سے مر رہے تھے جن کا علاج ممکن تھا۔

نرسوں اور ڈاکٹروں کی بہت کمی تھی اور اس سب کی وجہ پیسے کی کمی تھی جو کہ جنگ پر خرچ ہو چکا تھا۔

میں ہر روز امن کی لیے دُعا کرتی تھی۔

گریجوئشن کے بعد میں نوکری اور مزید تعلیم کے لیے برطانیہ چلی آئی۔

میں ہیماٹولوجی پڑھ رہی ہوں اور پورٹس ماؤتھ میں ایک ہسپتال میں نیشنل ہیلتھ سروس کے لیے کام کرتی ہوں۔

ایک ہیماٹولوجسٹ کی حیثیت سے مہارت حاصل کرنے کے بعد میں سوڈان واپس جانا چاہتی ہوں۔ وہ میرا وطن ہے اور مجھے اس کو بہت کچھ لوٹانا ہے۔

میں نے میڈیسن کی تعلیم حاصل کرنے کا آغاز وہاں کیا اور میری نظر میں صحیح یہی ہوگا کہ میں مہارت حاصل کرنے کے بعد وہاں جاؤں اور مجھے جو کچھ میرے ملک نے دیا، اسے واپس کروں۔

اب جبکہ امن معاہدہ ہو گیا ہے تو بہتری ہوگی اور وہاں لوگوں کو ہم ڈاکٹروں کی ضرورت بھی ہے۔

اس وقت سوڈان میں ہیماٹولوجسٹس کی بہت قِلت ہے اس لیے وہاں میری مہارت کی ضرورت ہے۔ میں خون کو لاحق بیماریوں اور خون کے کینسر کا علاج کر سکتی ہوں۔

میں ایڈز کے مریضوں کی مدد بھی کرنا چاہوں گی۔ جنگ بہت عرصہ جاری رہی جس کی وجہ سے ملک میں کوئی ایسا زریعہ نہیں ہے جس سے لوگ ایڈز کے بارے میں جان سکیں۔

میں مارچ میں اپنے والد کے ہمراہ خاندان والوں سے ملنے چھٹی پر سوڈان جا رہی ہوں اور اگلے ستمبر اپنے سالانہ امتحانوں کے بعد ہمیشہ کے لیے سوڈدان لوٹ جاؤں گی۔

سوڈان ایک بہت بڑا ملک ہے لیکن اس کی آبادی بہت کم ہے اس لیے میرا خیال ہے کہ ایک دفعہ صورتحال قابو میں آگئی تو یہاں حالات کو بہتر بنانے میں زیادہ دشواری نہیں ہو گی۔

مجھے امید ہے کہ اس نئے امن کا مثبت اثر مغربی سوڈان میں دارفر تک ہوگا کیوں کہ میرے خیال سے جب تک پورے ملک میں امن نہیں ہوتا اس امن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘


اس کہانی کا ایک حصہ مارچ میں راشا کا سوڈان میں اپنے خاندان والوں سے مل کر واپس لوٹنے پر شائع کیا جائے گا۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد