BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 December, 2004, 18:11 GMT 23:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیچنیا میں جنگ کے دس سال
چیچن باشندوں نے بی بی سی کے قارئین کے سوالات کا جواب دیا
چیچن باشندوں نے بی بی سی کے قارئین کے سوالات کا جواب دیا
چیچنیا میں ایک عشرے سے جاری لڑائی کے اثرات جاننے کے لیے بی بی سی روسی زبان کی ویب سائٹ نے گزشتہ آٹھ دسمبر کو زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چیچنیا کے باشندوں کو بات چیت کے لیے جمع کیا۔ ان لوگوں کا تعلق کسی بھی فریق سے نہیں ہے۔ چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی میں ان عام باشندوں نے اپنی زندگی کے بارے میں بی بی سی روسی سروِس کے قارئین کے سوالوں کا جواب دیا۔ اس گفتگو کے کچھ اقتباسات حسب ذیل ہیں۔


ایڈگار اگوئلر، میسیکو: چیچنیا میں بچوں کی زندگی کیسے گزرتی ہے؟ وہ اسکول کیسے جاتے ہیں؟
ملانا ابویوا، غیرملکی زبانوں کی طالبہ: جنگ بچوں کے ساتھ بڑوں کی حیثیت سے پیش آتی ہے۔ بیسلان میں اسکول پر حملے کے بعد بچوں کے ذہنی حالات کے بارے میں ماہرین کی مدد لی گئی۔ میرا دس سالہ بھائی پوچھتا تھا: کیا ہمیں ماہر نفسیات کی ضرورت نہیں ہے یا ہمیں اس کی عادت پڑگئی ہے؟ مجھے نہیں معلوم کہ میں اسے کیا جواب دیتی۔


سٹیفین ڈیمسی، کینڈال: جنگ کے دوران زندگی کی مشکلات نے چیچن بچوں کے خیالات کو کیسے متاثر کیا ہے؟
سلیمہ گپایووا، پراپرٹی ڈیلر: دس سال کے دوران کئی بچے پیدا ہوئے، انہوں نے بچپن سے ہی جنگ دیکھی ہے۔۔۔ ہم انہیں ’جنگ کے بچے‘ کہتے ہیں۔ انہیں بچپن نصیب نہیں ہوا۔ وہ شروع سے ہی بڑے تھے۔ وہ بڑوں کی طرح سوچتے، بولتے اور رہتے ہیں۔ انہیں وہ کچھ نہیں مل رہا ہے جو عام خاندانوں میں بچوں کو ملتا ہے۔ ان کے خاندانوں کو غربت اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی ذہنی حالت متاثر ہوئی ہے، جب وہ ٹی وی میں دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں کہ دوسری جگہ ان کی عمر کے بچے کیسے رہتے ہیں تو ان کو بے بسی کا احساس ہوتا ہے،۔۔۔۔



پرہلاد، انڈیا: کیا چیچن نوجوانوں کو تعلیم کے مواقع ملتے ہیں؟
علی ارتسویو، کیمسٹری کے طالب علم: ہاں نوجوانوں کو تعلیم فراہم ہے، یعنی وہ یونیورسٹی جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ تعلیم مکمل معنی میں نہیں ہے۔ مثال کے طور پر گروزنی میں تین یونیورسٹیوں میں جہاں سائنس کی تعلیم دی جاتی ہے لیبارٹری نہیں ہے۔ ہم صرف کتابوں پر انحصار کرتے ہیں۔



الیس شزیپانیکووا، چیکوسلواکیہ: جنگ کی وجہ سے چیچن معاشرے میں خواتین کا کردار کیسے متاثر ہوا؟
امینت ابومسلمووا، صحافی: یہ پوری طرح تبدیل ہوگیا ہے۔ جنگ نے عام مردوں کو روزمرہ کی زندگی سے الگ کردیا ہے، لہذا مردوں کے روایتی کام اب عورتیں کرتی ہیں۔


یولیا، ہلسِنکی: چیچن خواتین نے اپنی زندگیوں کی تعمیر کیسے کی؟
سلیما گپایووا، پراپرٹی ڈیلر: جنگ کے دوران کئی مرد مارے گئے یا غائب ہوگئے۔ صحیح تعداد بتانا مشکل ہے۔ بمباری، فوجی آپریشن، زبردستی کی نقل مکانی وغیرہ کی وجہ سے غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمہوریۂ چیچنیا میں ہر بیس خواتین کے تناسب میں صرف ایک مرد ہے۔ لہذا کسی لڑکی کو شریک حیات کی تلاش میں پہلی مشکل ہے: چوائس کی کمی۔ لہذا چیچنیا میں کئی لڑکیاں کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی کی حیثیت سے بیاہی جاتی ہیں۔ ۔۔۔ کچھ خواتین ہیں جن کے شوہر مارے گئے اور ان کے ساتھ صرف بچے ہیں۔ ایسی خواتین کی شادی مشکل ہے، کیونکہ ان سے کم عمر کی لڑکیاں موجود ہیں۔۔۔۔



جوسف، کینیڈا: چیچنیا کے لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں؟
علی سالگیری یو، قانون کے طالب علم: روس کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں چینیا میں روزمرہ کی زندگی مختلف ہے۔۔۔ چار لاکھ لوگ بےروزگار ہیں۔ گم شدہ پراپرٹی کے بدلے میں حکومت معاوضہ دیتی ہے لیکن اس کے لیے حکام کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ گروزنی یونیورسٹی کی جانب سے کرائی جانے والی رائے شماری کے مطابق پچانوے فیصد باشندے مشکل سے اپنی زندگی جی لیتے ہیں۔۔۔۔


رفیل کارابالو، امریکہ: کیا ضروری اشیاء جیسے پانی اور بجلی وغیرہ کی فراہمی صحیح ہے؟
ایڈم خانوکا ییو، بلڈر: پانی کی فراہمی بنائے رکھنا مشکل ہے، پائپ ٹوٹ گئے ہیں۔۔۔۔ بلیک آؤٹ یا پائپ پھٹنے سے فراہمی رک جاتی ہے۔ نکاسی کا نظام دباؤ میں ہے، وسائل لوٹ لیے جاتے ہیں۔۔۔



وادم، سافید: کیا لوگ سورج غروب ہونے کے بعد سڑکوں پر نکل سکتے ہیں؟
اوسرودی لورسانوو، پولیس والا: ہاں، ایسا کرسکتے ہیں۔ حالات بہتر ہورہے ہیں، اور تفریح کے نئے مواقع مل رہے ہیں۔


جیمز، امریکہ: معیشت کیسے چل رہی ہے؟
عیسیٰ تیسایو، بزنس مین: معیشت میں تیل نکالنے کا کام ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے، جو جنگ سے قبل کی سطح تک آگیا ہے۔ حکومتی جانب سے معاوضہ کی وجہ سے تعمیراتی کام وغیرہ ہورہے ہیں۔



ہوئے آرمسٹرانگ، امریکہ: چیچن لوگوں کو سردی کے موسم میں کس طرح کی عالمی امداد کی ضرورت ہے؟
بدرودی الداروو، بزرگ شخص: سردی سردی ہے۔ ہمیں غذا کی ضرورت ہے، ایندھن کی ضرورت ہے۔ گرم کپڑوں کی ضرورت ہے۔


ایین، امریکہ: آپ کس پر یقین کرتے ہیں: روسی فوج، روس کی حامی چیچن سکیورٹی فورس یا باغی؟
علی ارتسویو، کیمسٹری کے طالب علم: میرا ذاتی خیال یہ ہے میں ان میں سے کسی پر بھی یقین نہیں کرتا ہوں۔۔۔۔


حسن، آسٹریلیا: ایک کمیونٹی کی وجہ سے آپ خود کو دنیا سے کتنا کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں؟
اپتی تیپسایو، فلاسفر: بیرونی دنیا سے چیچنیا کٹا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر چیچنوں کو پاسپورٹ نہیں مل سکتا تاکہ وہ بیرون ملک سفر کرسکیں۔ روس کے اندر بھی سفر کرنا ان کے لیے مشکل ہے۔ گروزنی سے ہوائی جہاز کے ذریعے آپ کہیں نہیں جاسکتے، اور ٹرینیں چار دن میں صرف ایک بار چلتی ہیں۔۔۔۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد