کوہ قاف کے باغی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوہ قاف کے شمالی دامن میں واقع چچنیا کی چھوٹی سی جمہوریہ جس کا رقبہ پندرہ ہزار مربع کلو میٹر ہے اور آبادی دس لاکھ سے بھی کم، صدیوں سے روس سے نبرد آزما رہی ہے ۔ گو کوہ قاف کا یہ پورا علاقہ سولہویں صدی سے صفوی ایران ، سلطنت عثمانیہ اور زار روس کے درمیان کشمکش اور معرکوں کا مرکز رہا ہے لیکن چچنیا کے عوام نے اپنی آزادی کی جنگ کا آغاز اس وقت کیا جب اٹھارویں صدی کے آخر میں عیسا ِِئی جارجیا نے ماسکو کے ساتھ اتحاد کیا اور چچنیا ایک طرف جنوب میں جارجیا اور شمال میں روس کے گھیرے میں آگیا ۔ چچنیا کے
گو زارِ روس نے چچنیا کو اپنی سلطنت کا باقاعدہ حصہ بنا لیا لیکن چچن ہمیشہ زار کے تسلط کی مزاحمت کرتے رہے۔ سن اٹھارہ سو چالیس میں چچنیا میں آزادی کی ایک اور تحریک اٹھی اس بار بھی اس کے قائد ایک صوفی امام تھے۔ یہ لڑائی دس سال تک جاری رہی لیکن آخر کار سن اٹھارہ سو انسٹھ میں چچن پھر زارِ روس سے ہار گئے۔ سن انیس سو سترہ کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد جب روس میں خانہ جنگی بھڑکی تو اس دوران چچن عوام نے پھر ایک بار اپنی قسمت آزمائی اور آزادی کے لئے ہھتیار اٹھا لئے ۔ مقابلہ کبھی کمیونسٹ مخالفوں سے رہا اور کبھی خود کمیونسٹ ریڈ آرمی سے۔ انیس سو بیس میں چچن عوام نے کوہ قاف کے کوہستانی افراد کے ساتھ مل کر ایک متحدہ جمہوریہ قائم کی لیکن سن انیس سو بائیس میں سوویت قوت کے سامنے چچن عوام نے گھٹنے ٹیک دیے ۔اس دوران ان کی زبان کا عربی رسم الخط تبدیل کر کے روسی رسم الخط اپنایا گیا۔ دوسری عالم گیر جنگ چچن عوام کے لئے ایک عذاب بن کر آئی ۔ جوزف اسٹالین نے چچن عوام پر نازی جرمنی سے ساز باز کرنے کا الزام لگا کر پوری کی پوری چچن آبادی کو وسط ایشیا کے دور دراز علاقہ قزاقستان میں منتقل کر دیا ۔ اس انتقال آبادی کے دوران سینکڑوں چچن مارے گئے ۔ تیرہ سال تک چچن عوام جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے لیکن وطن واپسی کے لئے ان کی مہم جاری رہے اور آخر کار سن ستاون میں خروشیف نے چچنیا کی جمہوریہ دوبارہ قائم کی اور چچن عوام کو اپنی سرزمین پر واپس آنے کی اجازت دی۔ سن اکیانوے میں جب سوویت یونین کی بنیادیں لرزنی شروع ہوئیں تو سوویت فوج میں چچن جنرل جوہر دودائیف نے دارالحکومت گروزنی سے کمیونسٹ انتطامیہ کو نکال باہر کیا
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ روس اس چھوٹی سی جمہوریہ پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے جب کہ اس کے عوام روسی حکمرانی کے خلاف ہیں اور روس وسط ایشیا میں ایک نہیں بلکہ پانچ جمہوریاؤں سے دست بردار ہو کر انہیں آزادی دے چکا ہے؟ اس کا راز در اصل چچنیا کی اہم جغرافیائی حیثیت اور اس کی معدنی دولت میں مضمر ہے۔ کیسپئن کا تیل روس کی بحر اسود کی بندر گاہ نووروسیک تک چچنیا ہی سے گزرنے والی پائپ لائین سے جاتا ہے ۔ اور اب نہیں تو سوویت دور میں گروزنی میں تیل صاف کرنے کے اہم کارخانے تھے۔ روس کسی طرح تیل کی رسد کا یہ اہم راستہ ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہتا ہے پھر خود چچنیا میں گیس کے وافر ذخائر ہیں اور پہاڑوں میں بڑی مقدار میں تیل ہے۔ روس کو یہ خطرہ بھی ہے کہ اگر چچنیا آزاد ہو گیا تو آزادی کی یہ لہر پورے کوہ قاف کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور داغستان اور انگو شیتیا جیسی جمہوریایں اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||