BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 September, 2004, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہ قاف کے باغی

روسی فوج نے دارالحکومت گروزنی کو کھنڈر بنا دیا
روسی فوج نے دارالحکومت گروزنی کو کھنڈر بنا دیا
کوہ قاف کے شمالی دامن میں واقع چچنیا کی چھوٹی سی جمہوریہ جس کا رقبہ پندرہ ہزار مربع کلو میٹر ہے اور آبادی دس لاکھ سے بھی کم، صدیوں سے روس سے نبرد آزما رہی ہے ۔ گو کوہ قاف کا یہ پورا علاقہ سولہویں صدی سے صفوی ایران ، سلطنت عثمانیہ اور زار روس کے درمیان کشمکش اور معرکوں کا مرکز رہا ہے لیکن چچنیا کے عوام نے اپنی آزادی کی جنگ کا آغاز اس وقت کیا جب اٹھارویں صدی کے آخر میں عیسا ِِئی جارجیا نے ماسکو کے ساتھ اتحاد کیا اور چچنیا ایک طرف جنوب میں جارجیا اور شمال میں روس کے گھیرے میں آگیا ۔ چچنیا کے
جوزف اسٹالن نے ظلم کی داستان رقم کی
آزاد منش عوام نے روس میں جارجیا کے اس انظمام کو اپنے خلاف محاصرہ تصور کیا اور اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔ قیادت اس مسلح جدو جہد کی ان کے نقشبندی صوفی شیخ منصور نے کی۔ یہ جدوجہد آٹھ سال تک جاری رہی اور آخر کار فتح اس جنگ میں روسیوں کو رہی۔ شیخ منصور گرفتار ہوئے اور اس کے فورا بعد اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے لیکن اب بھی وہ ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔

گو زارِ روس نے چچنیا کو اپنی سلطنت کا باقاعدہ حصہ بنا لیا لیکن چچن ہمیشہ زار کے تسلط کی مزاحمت کرتے رہے۔ سن اٹھارہ سو چالیس میں چچنیا میں آزادی کی ایک اور تحریک اٹھی اس بار بھی اس کے قائد ایک صوفی امام تھے۔ یہ لڑائی دس سال تک جاری رہی لیکن آخر کار سن اٹھارہ سو انسٹھ میں چچن پھر زارِ روس سے ہار گئے۔

سن انیس سو سترہ کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد جب روس میں خانہ جنگی بھڑکی تو اس دوران چچن عوام نے پھر ایک بار اپنی قسمت آزمائی اور آزادی کے لئے ہھتیار اٹھا لئے ۔ مقابلہ کبھی کمیونسٹ مخالفوں سے رہا اور کبھی خود کمیونسٹ ریڈ آرمی سے۔ انیس سو بیس میں چچن عوام نے کوہ قاف کے کوہستانی افراد کے ساتھ مل کر ایک متحدہ جمہوریہ قائم کی لیکن سن انیس سو بائیس میں سوویت قوت کے سامنے چچن عوام نے گھٹنے ٹیک دیے ۔اس دوران ان کی زبان کا عربی رسم الخط تبدیل کر کے روسی رسم الخط اپنایا گیا۔

دوسری عالم گیر جنگ چچن عوام کے لئے ایک عذاب بن کر آئی ۔ جوزف اسٹالین نے چچن عوام پر نازی جرمنی سے ساز باز کرنے کا الزام لگا کر پوری کی پوری چچن آبادی کو وسط ایشیا کے دور دراز علاقہ قزاقستان میں منتقل کر دیا ۔ اس انتقال آبادی کے دوران سینکڑوں چچن مارے گئے ۔ تیرہ سال تک چچن عوام جلا وطنی کی زندگی گزارتے رہے لیکن وطن واپسی کے لئے ان کی مہم جاری رہے اور آخر کار سن ستاون میں خروشیف نے چچنیا کی جمہوریہ دوبارہ قائم کی اور چچن عوام کو اپنی سرزمین پر واپس آنے کی اجازت دی۔

سن اکیانوے میں جب سوویت یونین کی بنیادیں لرزنی شروع ہوئیں تو سوویت فوج میں چچن جنرل جوہر دودائیف نے دارالحکومت گروزنی سے کمیونسٹ انتطامیہ کو نکال باہر کیا

چیچنیا کے رہنما جوہر دودائیف
اور سویت یونین کی مسماری سے صرف ایک مہینہ قبل صدارتی انتخاب کرا کے دودائیف چچنیا کے منتخب صدر بن گئے اور نومبر اکیانوے میں جیسے ہی سوویت یونین مسمار ہوئی جوہر دودائیف نے چچن جمہویہ کی آزادی کا اعلان کردیا۔ روسی حکومت نے اسےتسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور تین سال تک اقتصادی ناکہ بندی اور سیاسی ہھتکنڈوں کے ذریعے جوہر دودائیف کی حکومت کی بیخ کنی کی ناکام کوششوں کے بعد آخر کار صدر بورس یلسن نے دسمبرسن چورانوے میں چچنیا پر فوجی چڑھائی کردی۔ دارالحکومت گروزنی کو کھنڈر بنا دیا چالیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے اور لاکھوں لوگ بے گھر۔ اسی دوران جوہر دودائیف روسی فوج کے ایک راکٹ حملہ میں ہلاک ہو گئے۔ آخر کار چچنیا کے نئے رہنما زلم خان اندر بائیف اور صدر یلسن کے درمیان جون سن چھیانوے میں صلح کا سمجھوتہ طے پایا اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ روسی فوجیں چچنیا سے نکل جائیں گی اور چچنیا کی حثیت کے بارے میں قطعی فیصلہ پانچ سال بعد کیا جائے گا ۔ لیکن ستمبر ننانوے میں ماسکو میں بم دھماکوں کا الزام چچن باغیوں پر لگا کر ولادمیر پوتین نے جو اس وقت صدر یلسن کے وزیر اعظم تھے چچنیا پر فوجی یلغار کردی اور جب سے برابر چچنیا میں روسی فوجیں دہشت گردی کےخاتمہ کے نام پر کاروائی کر رہی ہیں۔

بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ روس اس چھوٹی سی جمہوریہ پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے جب کہ اس کے عوام روسی حکمرانی کے خلاف ہیں اور روس وسط ایشیا میں ایک نہیں بلکہ پانچ جمہوریاؤں سے دست بردار ہو کر انہیں آزادی دے چکا ہے؟ اس کا راز در اصل چچنیا کی اہم جغرافیائی حیثیت اور اس کی معدنی دولت میں مضمر ہے۔ کیسپئن کا تیل روس کی بحر اسود کی بندر گاہ نووروسیک تک چچنیا ہی سے گزرنے والی پائپ لائین سے جاتا ہے ۔ اور اب نہیں تو سوویت دور میں گروزنی میں تیل صاف کرنے کے اہم کارخانے تھے۔ روس کسی طرح تیل کی رسد کا یہ اہم راستہ ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہتا ہے پھر خود چچنیا میں گیس کے وافر ذخائر ہیں اور پہاڑوں میں بڑی مقدار میں تیل ہے۔ روس کو یہ خطرہ بھی ہے کہ اگر چچنیا آزاد ہو گیا تو آزادی کی یہ لہر پورے کوہ قاف کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور داغستان اور انگو شیتیا جیسی جمہوریایں اس کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد