چیچنیا کے نئے صدر : علیوالحانوف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی حمایت یافتہ علیو الحانوف چیچنیا کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق چیچنیا کے موجودہ وزیر داخلہ نے بہت بڑی برتری حاصل کر لی ہے ۔ نتائج کا باقاعدہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق علیو الحانوف نے دو حریفوں کے مقابلے میں بہت زیادہ برتری حاصل ہو گئی ہے جس کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ روسی حمایت یافتہ علیو الحانوف کی کامیابی کے بارے سب کو یقین اس وقت جب ان کے حریف ملک سیداللہ کو نا اہل قرار دے دیا گیا تھا۔ چیچنیا میں صدر احمد قادروف کی ہلاکت کے بعدانتخابات دوبارہ ہوئے ہیں ۔ چیچنیا کے علیحدگی پسندوں نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دیا ہے ۔ گروزنی میں نامہ نگاروں کے مطابق روسی حمایت یافتہ علیو الحانوف کا انتخاب چحچنیا میں امن کو کوئی ضمانت نہیں ہے۔ چیچنیا میں چار صدر پہلے بھی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ ان کے پیش رو صدر احمد قادروف کو ایک بم حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ صدارتی انتخابات میں علیو الحانوف کو مقبول ترین امیدوار بتایا جا رہا تھا کیونکہ انہیں روسی حمایت حاصل ہے۔ ماسکو کو امید ہے کہ ان صدارتی انتخابات کے نتیجے میں چیچنیا میں جاری تشدد کو روکنے میں مدد ملے گی تاہم چیچن حکومت کو غیر قانونی تصور کرنے والے باغیوں نے اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ ماسکو اس سے پہلے اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ حال ہی میں اس کے یکے بعد دیگرے جو دو طیارے تباہ ہوئے ہیں ان کی تباہی میں بھی چیچن خود کش باغیوں ہی کا ہاتھ تھا۔ الیکشن کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کیے گئے تھے۔ پولنگ سٹیشنوں پر روسی پولیس کا سخت پہرہ تھا جبکہ تمام اہم شاہراہوں پر ٹرکوں کے آنے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ روسی حکومت کے خلاف خود کش حملوں کے لئے چیچنیائی باغی اکثر ٹرکوں کا استعمال کر تے رہے ہیں۔ دوسری جانب نہ صرف روس میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی حقوق کے لئے سرگرم کارکنوں نے اس الیکشن کو مسترد کر دیا ہے ۔ ان کے خیال میں روسی حکومت اس کے نتائج کو اپنے حق میں کرنے کے لیے دھاندلی کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||