روس: انگشیتیا میں باغی حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیچنیا کی ہمسایہ روسی ریاست انگشیتیا میں مسلح حملہ آوروں نے 46 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ مرنے والوں میں اٹھارہ پولیس والے بھی شامل تھے جن میں سے تین پولیس کےاعلٰی افسر تھے۔ باغیوں نے سرکاری عمارتوں، پولیس چوکیوں اور ناکہ بندیوں پر حملے کئے۔ انھوں نے ریاست کے سب سے بڑے شہر ’نظران‘ میں وزارتِ داخلہ کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا اور تین اعلٰی عہدے داروں کو قتل کر دیا جن میں ریاست کے قائم مقام وزیرِداخلہ ابوکرکوستوئیف بھی شامل تھے۔ بڑے پیمانے پر منظم کئے جانے والے اس حملے میں کوئی 200 باغیوں نے حصہ لیا۔ اب تک صرف دو باغیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو سکی ہے۔ حملے کا آغاز گزشتہ رات گیارہ بجے شہر نظران پر بہت سے راکٹ داغ کر کیا گیا، جس کے بعد رات گئے تک شہر میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ روسی ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر کا بیان ہے کہ شہر نظران کے باہر اسکا سامنا کچھ نقاب پوش حملہ آوروں سے ہوا تو انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ’شہیدی دستے‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کریملن کے ایک عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ باغی جتھے واپس پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے ہیں لیکن جاتے ہوئے اسلحے سے بھرے ہوئے دو ٹرک اور کچھ افراد کو یرغمال کے طور پر ساتھ لے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||