قادیروف:روس کے دشمن سے دوست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کو امید تھی کہ وہ چیچنیا میں صدر احمد قادیروف کی مدد سے حالات پر قابو پا سکے گا۔ گو احمد قادیروف کو چیچن باغی اب غدار کہتے تھے تاہم وہ ماضی میں روس کے خلاف جہاد کے داعی تھے۔ ماضی میں ان کی علیحدگی پسندی، معتدل مذہبی نظریات اور روس نوازی کے امتزاج نے ان کو روس کے لئے ایک موزوں حلیف بنا دیا تھا۔ احمد قادیروف اکتوبر دو ہزار تین میں متنازعہ انتخابات میں چیچنیا کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ چیچین ان انتخابات کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔ احمد قادیروف انیس سو اکیاون میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان ان چیچن ِخاندانوں میں سے تھا جنہیں اس وقت کے سوویت یونین کے سربراہ سٹالن کی ایک پالیسی کے تحت نئے علاقوں میں آباد کیا گیا تھا۔ انہوں نے انیس سو اسّی کی دہائی میں ازبکستان میں اسلام کی تعلیم حاصل کی اور انیس سو اناسی میں شمالی کوہ قاف کے پہلے اسلامی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔
انیس سو ترانوے میں انہیں چیچنیا میں نائب مفتی بنا دیا گیا۔ انیس سو پچانوے میں میں جب وہ مفتی بنے تو چیچنیا کی انیس سو چوراونے،چھیاونے کی لڑائی چھڑ چکی تھی۔ احمد قادیروف مذہبی فرائص کے ساتھ ساتھ گوریلا کمانڈر کی حیثیت سے روس سے علیحدگی کی لڑائی میں بھی شامل تھے۔ حالات نے اس وقت پلٹا کھایا جب انیس سو ننانوے میں احمد قادیروف نے چیچن جنگجو سردار شامیل باساییو کی ہمسایہ خطے داغستان میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی کوشش کی۔ احمد قادیروف نے روسی فوجیوں کے خلاف مسلح مزاحمت کی بھی مخالفت کرنا شروع کر دی۔ علیحدگی پسند رہنما اسلان ماسخادوف نے انہیں ’دشمن نمبر ایک ‘ قرار دیا اور مُفتی کی حیثیت سے برطرف کر دیا۔ ان حالات میں روس نے جب اسے ماسکو نواز انتظامیہ کی ضرورت تھی احمد قادیروف کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد انہیں صدر نامزد کر دیا۔ چیچنیا کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے کئی دشمن تھے اور وہ اپنی جان پر حملوں کے عادی ہو چکے تھے۔
احمد قادیروف کو روس سے شکایت تھی کہ وہ چیچنا میں ترقی کے لئے اقدامات نہیں کر رہا اور وہ کھلے عام روس پر چیچنیا کے شہریوں کے ساتھ ظلم کی شکایت بھی کرتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||