پیوتن کا ستارہ بلند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو جب روسی عوام ووٹ ڈالیں گے تو ان میں سے بیشتر کو یقین ہوگا کہ ولادمیر پیوتن ہی ملک کے طاقتور رہنما ہیں اور جن کی روس کو ضرورت ہے۔ روسی عوام کئی صدیوں سے ایسے ہی طاقتور رہنماؤں کے نہ صرف مداح بلکہ عادی بھی رہے ہیں اور اگر ایک نظر روسی تاریخ پر ڈالی جائے تو ہمیشہ روس میں جیت اسی کی ہو ئی ہے جس کا پنجہ مضبوط ہو۔ اگر لوگوں سے پوچھا جائے کہ ملک کے بہترین زار کون تھے تو وہ ”ایون دی ٹیریبل اور پیٹر دی گریٹ" کے ہی نام لیں گے۔ ”ایون" بھیانک تھا کیونکہ وہ اپنے اقتدار کے لیئے ظالمانہ طریقوں کا استعمال کرتا تھا اور ”پیٹر" عظیم تھا کیونکہ اس نے تہذیب یافتہ دنیا کو روس کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا تھا اور وہ بھی اپنی عوام زبردست قربانیوں کے بعد۔
”نکولس دوئم" کا شمار بھی بہترین روسی زار رہنماؤں میں تو ہوتا لیکن ان میں جو انتہائی کمزور تھےاور جن کا تختہ مارچ انیس سو سترہ کے انقلاب کے بعد الٹ دیا گیا تھا۔ نکولس کی شکست کے بعد جب ”بولشوکس" نے نومبر انیس سو سترہ میں حکومت سنبھالی تو ان کو اندازہ ہو چکا تھا کہ ملک پر حکومت صرف طاقت کے بل پر کی جا سکتی ہے۔ ”لینن " بھی اپنی نوعیت کا ظالم رہنما تھا جو جانتا تھا کے ”عوام کے دشمنوں" کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہیے۔اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کے جتنے مظالم سٹالن کے احکامات پر کیۓگیۓ وہ لینن کی حکمت عملی کا ہی تسلسل تھے۔ لینن کے دور کے بعد کی تاریخی کتابوں میں درج ہے کہ جب کسی سے پوچھا گیا کہ ”اڈلوف ہٹلر کون تھا" ؟ تو جواب ملا کہ ” جوزف سٹالن کے دور کا ایک گھٹیا آمر"۔ اگر یہ پوچھا جاۓ کہ سوویت یونین کیوں ٹوٹی تو اس کا جواب ہوگا ”مخائیل گورباچوف" کی وجہ سے سوویت یونین کا زوال آیا کیونکہ وہ پہلا اور واحد کمزور روسی صدر تھا جو جمہوریت کے مغربی نظریات کے ہاتھوں کھلونا بنا اور پھر ملک کھو دیا۔
گورباچوف کے بعد ابتدائی دور میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ” بورس یلسن" نے جنہوں نے روسیوں کو ان کا کھویا ہوا وقار واپس دلانے کی کوشش تو کی لیکن وہ بھی روسیوں کے لیئے شرمندگی کا باعث بنے۔ شراب میں دھت رہنے اور خراب صحت کے باعث ” بورس یلسن" زیادہ عرصے صدارت نہیں سنبھال سکے۔ یہاں سے دور شروع ہوا ”ولادمیر پیوتن " کا۔ جنہوں نے روسیوں کو ان کا وقار واپس لوٹایا اور ایک مستحکم صدر ہونے کا یقین دلایا۔ چیچنیا کی مہم مسٹر پیوتن کے منتخب ہونے کی ایک اہم وجہ تھی۔ اس مہم کے دوران دنیا اورر خود روسیوں کو اندازہ ہو گیا کے مسٹر پیوتن روس پر کیئے جانے والے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||