روس میں حکومت برطرف کر دی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ٹیلی وژن پر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے حکومت برطرف کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم میخائل کیسیناف نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حکومت کی برطرفی کے بعد امکان ہے کہ صدر پوتن دو ہفتے کے بعد نئے وزیر اعظم کو نامذد کر دیں گے۔ دریں اثنا نائب وزیر اعظم وکٹر کرسٹنکو اس عہد ے پر عارضی طور پر کام کریں گے۔ صدر پوتن کا یہ اقدام لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہے کیونکہ کسی کے ذہن میں بھی یہ امکان نہیں تھا کہ صدر کابینہ کو برطرف کر سکتے ہیں اور نہ ملک کی صورتِ حال سے بظاہر ایسا لگتا تھا۔ صدر پوتن نے کہا کہ حکومت اس لئے برطرف نہیں کی گئی کہ اس کی کارکردگی خراب تھی تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کا یہ عمل اس بات کا عکاس ہے کہ روس کی موجودہ حکومت میں صدر پوتن کے پیشرو بورس یلسن کی کوئی نشانی نہیں رہی۔ صدر پوتن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ روسی ووٹروں کے سامنے آئندہ مارچ میں ہونے والے صدراتی انتخابات میں کے لئے ترقی کا ایک نیا تخیل ہو۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو سترہ کے تحت انہیں حکومت سے استعفٰی حاصل کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ روسی صدر کے حکومت کو برخواست کرنے کے اعلان کے بعد ملک کے بازارِ حصص میں کھلبلی سی مچ گئی اور کئی شیئرز کی قیمتیں گر گئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||