| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری پروگرام، ایران کا اعتراف
اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے، آئی اے ای اے، کے لئے ایران کے نمائندے نے اعتراف کیا ہے کہ ادارے سے معاملات میں ان کی حکومت کی طرف سے کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں تاہم بقول ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ ایرانی نمائندے علی اکبر صالحی نے یہ بیان ادارے کی اس رپورٹ کے ردعمل میں دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبہ سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرنے میں بار بار ناکام رہا ہے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس رپورٹ میں اس بات کے شواہد نہیں ہیں کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنا رہا تھا تاہم اس نے تھوڑی مقدار میں پلوٹونیم اور افزودہ یورینیم تیار کیا تھا۔ صالحی کا کہنا ہے کہ جوہری مواد کی مقدار کے بارے میں رتی ماشے کا فرق ہے اور اس طرح کی کوتاہیاں تمام ممالک سے سرزد ہوتی ہیں۔ اس رپورٹ پر آئندہ ہفتہ آئی اے ای اے کے اجلاس میں بحث ہوگی۔ گزشتہ روز ایران نے کہا تھا کہ اس نے یورینمیم بنانے کا کام بند کر دیا ہے اور آئی اے ای اے کو ایک خط میں آگاہ کیا ہے کہ وہ سخت تر پیمانے پر جانچ پڑتال پر آمادہ ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کی اس ’خفیہ رپورٹ‘ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ایران ماضی میں اپنے جوہری پروگرام کی مکمل تفصیلات دینے میں ناکام رہا ہے، تاہم اب وہ اس سلسلے میں تعاون کر رہا ہے۔ اس معاہدے کے باعث ایران کی جوہری تنصیبات کی مزید سخت چھان بین ممکن ہو جائے گی۔ آئی اے ای اے اب اس ماہ کے آخر میں یہ فیصلہ کرنے کی غرض سے اجلاس بلائے گا کہ آیا ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے کہ نہیں۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں لگا ہے۔ یورینیم کی افزودگی کو فوراً معطل کرنے کا اعلان ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری حسن روحانی نے ماسکو میں کیا۔ روس کی خبر رساں ایجنسی اتار تاس کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات سے پہلے حسن روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ تاہم ان کے بقول حالیہ اعلان کا مقصد ’تمام خدشات کو دور کر کے جوہری منصوبے کو بین الاقوامی ضابطوں کی حدود میں آگے بڑھانا ہے‘۔ صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس یہ سمجھتا ہے کہ ایران کو یورینیم کو افزودہ بنانے کا حق حاصل ہے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ایران نے از خود اپنے منصوبے کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر پوتن نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے اعلان کی روشنی میں ایران کے ساتھ جوہری تعاون جاری رکھنے میں روس کو بظاہر کوئی رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ روس ایران کے ساتھ مل کر ایران کے جنوب مغربی شہر بوشہر میں اسی کروڑ ڈالر کا ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ بارہا مؤخر کر چکا ہے۔ جوہری تنصیبات سے متعلق اضافی معاہدے کے نتیجے میں اقوام متحدہ جوہری توانائی کی بین الاقوامی یجنسی یعنی آئی۔اے۔ای۔اے کے عملے کو ایران میں چھان بین کا وسیع تر اختیار حاصل ہو جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||