| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نےمطالبات پورے کر دئیے
عالمی جوہری ادارے کے سربراہ محمّد البرادعی نے کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر تیار کردہ رپورٹ کو جامع اور مبنی بر حقائق قرار دیا ہے اور رپورٹ کی سرسری خواندگی کے دوران یہ دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ ایرانی رپورٹ میں درج امور کی تفصیلی چھان بین کے لئے عالمی جوہری ادارے کے ماہرین ایران پہنچ چکے ہیں لیکن وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پڑتال کا عمل ایک دو روز کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ عالمی معائنہ کار اس نکتے پہ توجّہ مرکوز رکھیں گے کہ آیا ایران ماضی میں ہتھیار بنانے کی نیّت سے یورینیم کو افزودہ کرتا رہا ہے کیونکہ وہاں کی جوہری بھٹّیوں میں انتہائی افزودہ یورینیم کے آثار ملے تھے۔ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ نے اس موقعے پر کہا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو مضبوط ترکرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت دنیا میں پینتیس سے چالیس تک ممالک ایسے ہیں جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحّیت حاصل کر چکے ہیں اور چونکہ موجودہ معاہدے میں یورینیم کی افزودگی پر کوئی پابندی نہیں، اس لئے کوئی بھی ملک یورینیم کو افزودہ کر کے معاہدے سے الگ ہو سکتا ہے اور ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||