BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 September, 2003, 01:46 GMT 05:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کو نیا امریکی انتباہ
ایران میں افزودہ یورینیم ملا ہے
صدر بش نے کہا ہے کہ اگر ایران جوہری پروگرام بند نہیں کرتا تو عالمی مذمت کے لئے تیار رہے

امریکی صدر جارج بش نے ایران کو پھر خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اپنا جوہری پروگرام ترک نہ کیا تو اسے ’ہر طرف سے‘ مذمت کا سامنا ہوگا۔

صدر بش کا بیان ان اطلاعات کے بعد آیا ہے جن کے مطابق اقوامِ متحدہ کے انسپکٹروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایران میں اس سطح کا اعلی طور پر افزودہ کیا گیا یورینیم ملا ہے جو ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے یورینیم کے مساوی ہے۔

صدر بش نے کہا کہ اگر یہ طے ہوگیا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے تو اسے عالمی سطح پر مذمت کا سامنا کرنا ہوگا۔

نیویارک میں اس ہفتے کے اوائل میں عالمی رہنماؤں سے اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ لوگ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے خطرات سے باخبر ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ جمعہ اور ہفتے کو امریکی صدر ولادیمیر پوٹن سے اپنی سربراہ ملاقات میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا معاملہ بھی زیرِ بحث لائیں گے۔

سفارتکاروں کا کہنا ہےکہ تہران کے جنوب میں گزشتہ ماہ یورنیم کی کچھ مقدار ملی تھی۔

بین الاقوامی جوہری ایجنسی آئی اے ای اے کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ایران سے ملنے والا وہ یورنیم جس کا درجہ ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے یورینیم کے برابر ہے، ایران میں ہی تیار کیا گیا تھا۔

آئی اے ای اے کے اہلکار آجکل ایران میں جوہری ہتھیاوں کے پروگرام کا ثبوت تلاش کر رہے ہیں۔

آئی اے ای اے نے ایران سے کہہ رکھا ہےکہ وہ اکتیس اکتوبر تک امریکہ کے ان دعووں کو غلط ثابت کردے کہ وہ جوہری پروگرام پر عمل پیرا ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے اور وہ صرف ایسا یورنیم تیار کرنا چاہتا ہے جس کی افزودگی کا درجہ کم ہے اور جو بموں میں استعمال نہیں ہو سکتا۔

ایران یہ بھی کہتا ہے کہ گزشتہ ماہ جہاں سے یورنیم ملا تھا وہ جوہری توانائی تیار کرنے کے پروگرام کا مقام نہیں ہے بلکہ وہاں آلات رکھے جاتے ہیں۔

پیر کو ایران نے کہا تھا کہ وہ تیس اکتوبر کے الٹی میٹم کی وجہ سے عالمی ادارے سے تعاون کم کر دے گا۔ اگر یہ ثابت ہوگیا کہ ایران آئی اے ای اے کے ساتھ معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو پھراقوامِ متحدہ کی جانب سے اس پر اقتصادی اور سیاسی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد