| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دھاندلی: روسی انتخابات کی مذمت
بین الاقوامی مبصرین نے کہا ہے کہ روس میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کئی جمہوری روایات پر پورے نہیں اترتے۔ آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ مبصرین کے مطابق ریاستی سازوسامان، ذرائع اور عمارات کے ناجائز استعمال سے نتائج کو حکومت کی حامی جماعت کے حق میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ صدر ولایمیر پوتن نے ریاستی ڈوما کے انتخابات کو روس میں مضبوط جمہوریت کی طرف ایک اور قدم قرار دیا ہے۔ روس میں پارلیمان کے انتخابات کےنتائج کے مطابق ’یونائیٹڈ رشیا‘ نامی اس سیاسی جماعت کو برتری حاصل ہوئی ہے جسےصدر پیوتن کی حمایت حاصل ہے۔ اب جبکہ اٹھانوے فیصد ووٹ گنے جا چکے ہیں، صدر پوتن کی حامی یونائیٹڈ رشیا نے تقریبا سینتیس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ ان انتخابات میں اب تک دوسرے نمبر پر ولادیمیر زرنووسکی کی جماعت ’الٹرا نیشنلسٹ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی‘ رہی ہے جوکہ کمیونسٹ تیسرے نمبر پر ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نتائج میں یہی رجحان رہا تو صدر پیوتن کے لیے یہ قدرے آسان ہوجائے گا کہ وہ اپنی اقتصادی اصلاحات نافذ کرسکیں اور آئندہ ماہ مارچ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کہ آیا برتری حاصل کرنے والی ان دونوں جماعتوں نے وہ مطلوبہ پانچ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں یا نہیں جو پارلیمان کی نشست کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔ روس میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد سے پارلیمان کے ایوان زیریں ’ڈوما‘ کے یہ چوتھے انتخابات ہیں جن میں تقریباً تیئس سیاسی جماعتوں کے امیدوار پچاس نشستوں کے لیے میدان میں ہیں۔ ان انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد مطلوبہ پچیس فیصد سے کہیں زیادہ یعنی پینتیس فیصد رہی۔ یہ انتخابات ایوان کے اگلے چار برس کے لیے منعقد ہورہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||