’مجھے اپنی کھوئی ہوئی بہن مل جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں سوویت فوجوں کے قبضے کے پچیس برس پورے ہونے پر خصوصی تحریر۔ افغانستان میں حفیظ اللہ امین کے دور حکومت میں ،میں ایک سکول میں ٹیچر تھی۔ اس کے علاوہ میری کچھ سیاسی سرگرمیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔ ایک روز میری غیر موجودگی میں ہوم منسٹری کے لوگوں نے میرے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے بعد میری 13 سالہ بہن کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ جب میں نے یہ خبر سنی تو مجھے اپنی زندگی کو لاحق خطرہ محسوس ہوا اور میں نے پھر کبھی گھر کا رخ نہ کیا۔ مجھے اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ چھپ کر زندگی گزارنی پڑی۔ وہ ایک بڑا ہی مشکل دور تھا۔ ہم تین ماہ سے زائد عرصہ تک کسی ایک جگہ پر ٹک کر نہیں رہ سکتے تھے اور ہم نے مختلف دوستوں اور رشتےداروں کے ہاں قیام کیا۔ میں خود سے زیادہ اپنی بہن کے لئے فکرمند تھی جس کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے کیسی ہے۔ ہم اس کو اب تک تلاش نہیں کر سکے تھے۔ یہ میری زندگی کا بہت ہی کٹھن مرحلہ تھا۔ کبھی کبھی میرا دل چاہتا تھا کہ میں ہر افغانی عورت کے چہرے پر سے نقاب ہٹا کر دیکھوں۔ شاید ان میں کہیں مجھے اپنی کھوئی ہوئی بہن مل جائے۔ ہم ہر روز کسی اچھی خبر کی امید میں باقاعدگی سےخبریں سنا کرتے تھے۔ 27 دسمبر کو ایک اور بری خبر سُننے کو ملی کہ بین الاقوامی افواج نے ہمارے ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔
لوگ یہ خبر سن کر حیران رہ گئے اور جلد ہی اس قبضہ کے جواب میں مزاحمت شروع ہوگئی۔ سوویت فوجیں ہر جگہ قابض تھیں۔ اول تو انھیں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا لیکن بعد میں افغانی مزاحمت کا جواب انھون نے شدت کے ساتھ دیا۔لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے اور سوویت فوج ان پر گولیاں برساتی تھی۔ میرے خیال میں سوویت یونین کا افغانستان پر وہ حملہ اور اس سے قبل انے والا انقلاب ہی افغانیوں کی بدحالی کا باعث بنا جس کے نتائج وہ آج بھی بُھگت رہے ہیں۔ ایسا ایک بھی خاندان نہیں ملتا جس نے اس دوران اپنے کسی عزیز کو نہ کھویا ہو۔میں اس تمام عرصہ افغانستان میں ہی رہی اور بچوں کو پڑھانے کا کام جاری رکھا ایک ایسے دن کی امید میں جب زندگی معمول پر لولٹ آئے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||