میرا صفحہ: چکوال کی امیدیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں نے سنا کہ سولہ مارچ کو بی بی سی کی ٹیم چکوال پہنچے گی تو بہت خوشی ہوئی کیونکہ اس شہر کی بی بی سی سے کچھ توقعات ہیں۔ یوں تو چکوال کی اہمیت کئی حوالوں سے ہے لیکن پچھلے برس من موہن سنگھ کے بھارت کا وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر ان کت جائے پیدائش ’گاہ‘ نے اسے عالمگیر شہرت دے ڈالی۔ ’گاہ‘ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو چکوال شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چند ماہ قبل مجھے وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک انتہائی پسماندہ قصبہ ہے۔ اگرچہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور مرکزی حکومت نے اس کی تعمیر و ترقی کے لیے بھاری گرانٹ کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اصل کام اس اعلان کو عملی شکل دینا ہے۔ چکوال کے معاملے میں ہم نے دیکھا یہ ہے کہ ’آہ کو چاہیے ایک عمر اثر ہونے تک‘۔ یہاں کی سڑک انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے، پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، چکوال شہر سے ملحقہ چھوٹے چھوٹے قصبوں جیسے کہ تھنیل فتوحی، ڈھاب کلاں، ڈھاب خوشحال وغیرہ میں ٹیلیفون اور گیس جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ اس کے لیے کسی بڑی گرانٹ کی ضرورت بھی نہیں کہ مین لائن صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ گیس کے حوالے سے چکوال کی ایک اہم تحصیل تلہ گنگ عرصہ دراز سے نظر انداز کی جارہی ہے۔ ڈائریکٹو تک منظور ہوچکے مگر کام نہیں شروع ہوا۔ چکوال میں ایک سپورٹس سٹیڈیم کئی سال پہلے منظور ہوا مگر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے بعد صرف ایک تختی اس کی نشانی کے طور پر موجود ہے۔ شاید اصل مقصد کچھ سیاست دانوں کا ٹی وی کیمروں کے سامنے آنا ہی تھا۔ اب ایک بار پھر ضلعی انتظامیہ کو سٹیڈیم بنانے کا خیال آیا ہے تو اسی کنال کی اس اراضی پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا جو کہ مقامی زمینداروں کے زیرِ کاشت ہے۔ ان زمینداروں نے عدالت سے رجوع کرکے اسے رکوا تو لیا ہے لیکن یہ مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ چکوال میں ہندوؤں اور سکھوں کی کئی مقدس عبادت گاہیں ہیں جو کٹاس، کلر کہار اور میانی بوچھال میں واقع ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارتی صوبے ہریانہ کے وزیرِ اعلیٰ ان کی زیارت کے لیے بھی تشریف لائے مگر وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کہ مصداق ہم اپنے گھر کو ہی دیکھتے رہ گئے اور ابھی تک دیکھتے ہیں۔ یہاں دن بھر مال مویشی چرتے ہیں اور کوئی اس کی طرف نظرِ عنایت نہیں کرتا۔ شاید اور کچھ نہیں تو بی بی سی کی ٹیم کی چکوال آمد ان میں سے چند مسائل پر آواز اٹھانے کا موقع بن جائے۔ ایک طرف تو مسائل ہیں اور دوسری جانب یہاں کے مقامی سیاست دانوں کی باہمی چپقلش ان مسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ انہیں عوام کی یاد تب ستاتی ہے جب انتخابات قریب ہوں۔
چکوال میں شاید ہی کسی فصل کی کونپلیں اس تیزی سے پھوٹی ہوں جیسے نجی سکول۔ ان سکولوں کی بھرمار نے تعلیم کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ شاید یہاں اتنے طالبِ علم نہ ہوں جتنے سکول ہیں۔ یہ حال ہے کہ اب تو کیا نیا سکول کھلتا ہے تو منتظمین کے لیے نام رکھنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ ان ’اعلیٰ نجی تعلیمی‘ اداروں کی حالت یہ ہے کہ میٹرک سے کم تعلیم یافتہ اساتذہ یہاں علم کی روشنی پھیلا رہے ہیں جبکہ ان کی فیس ایسی ہے جو عام آدمی کے بس سے باہر ہے۔ سکولوں کے ساتھ ساتھ شہر میں جس دوسری چیز نے ترقی حاصل کی ہے وہ ہے رکشوں کی آبادی۔ ہر طرف کم عمر رکشہ ڈرائیور اڑے پھرتے ہیں اور کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوچکا ہے۔ ایک طرف تو آلودگی اور دوسرے طرف شہریوں کی جان کے لیے خطرہ۔ کچھ عرصہ گاڑیوں کے اڈے شہر سے باہر منتقل کیے گئے لیکن جو اڈوں کے مالک تھے ان کا اثر و رسوخ کام لایا اور یہ رکشوں سمیت شہر میں واپس لوٹ آئے۔ یہاں ارد گرد بہت سے سکول ہیں جس کی وجہ سے طلباء و طالبات کا بے پناہ رش ہوتا ہے۔ مسائل اتنے ہیں کہ شاید آپ کے صفحات ان کا بوجھ نہ سہار پائیں مگر امید ہے کہ ان میں سے کچھ ضرور بی بی سی کی چکوال آنے والی ٹیم کی توجہ حاصل کرسکیں گے۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنےمسائل کے بارے میں یا کسی موضوع پر دلائل کے ساتھ کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||