BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 March, 2005, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی سی سنگت: ڈیم اور پانی
بی بی سی سنگت کا پہلا پروگرام حیدرآباد میں شروع
بی بی سی سنگت کا پہلا پروگرام حیدرآباد میں شروع
بی بی سی اردو پاکستان میں اپنے سامعین اور قارئین سے براہ راست ملنے اور ان کی رائے جاننے کے لیے ایک ملک گیر رابطہ مہم شروع کر رہی ہے۔

مارچ میں جاری رہنے والی اس مہم ’بی بی سی سنگت۔۔۔ کہیں آپ سنیں ہم‘ کے دوران بی بی سی اردو کی ٹیمیں حیدرآباد، خیرپور، بہاولپور، فیصل آباد، چکوال، گلگت، مظفرآباد، ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب اور گوادر میں آپ تک پہنچیں گی اور ان موضوعات پر جو آپ کے نزدیک اہم ہیں، آپ کے خیالات جانیں گی۔

اس سلسلے کا پہلا پروگرام دو مارچ کو صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس پروگرام کا مرکزی موضوع مرکزی موضوع ’پانی کے وسائل اور بڑے ڈیم‘ ہے۔ ہم ہر روز اگلے شہر میں ان موضوعات پر آپ کی رائے جاننا چاہیں گے تاکہ ہمارے وہ قارئین جو ان پروگرامز تک اپنی آواز نہ پہنچا پائیں وہ ہمارے صفحات پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

آپ کے خیال میں ’پانی‘ پاکستان کے عوام اور خصوصاً سندھ کے لیے کتنا اہم مسئلہ ہے؟ کیا بڑے ڈیم تعمیر ہونے چاہئیں ؟ ان ڈیمز کی تعمیر کتنی فائدہ مند اور کتنی نقصان دہ ہوگی؟ اس پر ہمیں اپنی رائے بھیجیے۔

اس کے علاوہ اگر آپ بی بی سی اردو سروس کے بارے میں اپنی آراء یا یادیں ہمیں بھیجنا چاہیں تو وہ اسی فورم کے ذریعے تفصیل سے لکھ کر بھیجیں۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔

عبدالرؤف دیتھو، کینیڈا:
مشرف بھٹو کی طرح پنجاب کے ایجنٹ ہیں جو اپنے آپ کو سندھی بولتے ہیں لیکن ہر کام پنجاب کا ہوتا ہے۔ سندھ کی زراعت برباد ہوگئی، پنجاب میں بمپر کراپ فصل ہورہی ہیں۔ بھٹو نے پنجاب کو خوش کرنے کے لئے تھل کینال دریائے سندھ پر بنایا۔ مشرف کالاباغ کی بات کررہے ہیں۔۔۔

زین علی، کراچی:
میرے خیال میں ڈیم کی ضرورت تو ہے لیکن کالاباغ ہی کیوں؟ باشا ڈیم کیوں نہیں؟۔۔۔۔

نوید نقوی، کراچی:
مجھے نہیں پتہ کہ اگر کالاباغ ڈیم نہیں بنا تو کیا ہوگا کیوں کہ سندھ کے سیاست دان کچھ کہہ رہے ہیں اور گورنمنٹ کچھ۔ اب وہ لوگ بےچارے کیا رائے دیں گے جنہوں نے آج تک ڈیم تو کیا، ہوا بھی نہیں دیکھا۔ ان کو یہ نہیں پتہ کہ ڈیم تعمیر کرنے یا نہ کرنے سے یہ فرق پڑتا ہے پر ایک بات تو ہے کہ ہوگا وہی جو پاکستان کی گورنمنٹ چاہے گی۔

عبدالغفار پندرانی، لڑکانہ:
یہ ڈیم کے ایشوز کو سنتے ہوئے بیس سال ہونے والے ہیں۔ابھی تک کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔۔۔۔

ظاہر شاہ، امریکہ:
موجودہ حالات میں کالاباغ ڈیم ایک سیاسی تنازعہ بن گیا ہے اور اسے نظرانداز کرنے کی ضرورت ہے۔ باشا ڈام اتنا حساس مسئلہ نہیں ہے اور ہمیں اسے فوری طور پر تعمیر کرنا چاہئے۔ بڑے ڈیم بنانے کی جگہ ہمیں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔

محمد علی بشیر میمن، کراچی:
ڈیم اور پانی کے مسئلے پر کسی بھی سیاسی جماعت کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام کو غلط راہ دکھائیں اور ڈیم کے اوپر پیدا کی جانے والی ساری غلطیاں دشمنوں کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ ہم سب کو چاہئے کہ اس مسئلے پر جلد از جلد ایک ہوجائیں۔

شاہد ارشاد، خان پور:
ڈیم پاکستان کے لئے ضروری ہیں۔ کچھ سیاست دان ڈیم کے خلاف ہیں اور حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔ اگر حکومت فیصلہ کرتی ہے تو کوئی اس کی مخالفت نہیں کرتا ہے۔ میرے خیال میں لوگوں کی اکثریت اور سیاست دان بھی اس کی مخالفت بغیر کسی اچھی وجہ کے کررہے ہیں۔

قومی مفاد ہے
 قومی مفاد کو سیاست کی نظر کرنا اپنے آپ سے اور آنے والی نسلوں سے دشمنی اور ملک سے غداری ہے۔
شعیب باوجہ، فیصل آباد

شعیب باوجہ، فیصل آباد:
کالا باغ ڈیم ایک ٹیکنیکل مسئلہ ہے جس پر انجینیئرز کو کچھ اعتراض بھی ہے لیکن بات کو عوام میں ایشو بنانے کی سیاست چمکائی جارہی ہے جو سیاست دان کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتے ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں کہ جب عوام کو پانی نہیں ملے گا تو ان کو کوئی مسئلہ ہوگا۔ قومی مفاد کو سیاست کی نظر کرنا اپنے آپ سے اور آنے والی نسلوں سے دشمنی اور ملک سے غداری ہے۔

بلاول، میرپور خاص:
جو بھی ملک کا حکمران آتا ہے پنجاب کو بڑھنے اور سندھ کو کھانے کی بات کرتا ہے۔

میر شاہ مراد طالپور، میرپور خاص:
جو کہتے ہیں کہ کالاباغ بنے، وہ پہلے سندھ کے پانی کا حصہ تو پورا دیں۔ اس کے بعد باشا ڈیم بنائیں کیوں کہ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ پھر کالاباغ پر ایک اچھی نیگوشی ایشن کرکے سب کو راضی کرکے بنائیں۔ مگر پتہ نہیں حکومت کالاباغ کی زیادہ فکر کرتی ہے؟

ضیاء الرحمان شہزاد، گجرانوالہ:
ڈیم نہیں بنے تو پاکستان مشکل میں ہوگا۔

شازیہ نظامانی، ٹانڈو قیصر:
جی نہیں، کالاباغ ڈیم کو کبھی نہیں بنانا چاہئے۔ پانی کا معاملہ سندھ کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ جنرل صاحب ابھی تک سندھیوں کو پانی کی فراہمی کا یقین نہیں دلاسکے، ڈیم بنانے کے بعد سندھ کو کیا خاک پانی ملے گا۔ میرے خیال میں کالا باغ ڈیم بنانے کا خیال جنرل صاحب کو اپنے دل سے نکالنا چاہئے کیوں کہ سندھیوں کو ناراض کر کے وہ پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے لیں۔۔۔۔

ارسلان، مانچسٹر:
ڈیم بنانا ضروری ہے۔ سندھ کو تو فائدہ ہے، نہروں کے ذریعے پانی بہتر طریقے سے کھیتوں تک پہنچایا جاسکتا ہے، یا صرف دریا کے ذریعے؟ پنجابی تو ہر پاکستان سی بہت زیادہ انتہائی پیار کرتے ہیں۔ بےشک وہ سندھی ہو، بلوچی ہو، پٹھان ہو، یا کشمیری، لیکن۔۔۔۔

ماجد رفیق، لاہور:
کچھ کام بغیر کسی بحث و مباحثے کے کرنا چاہئے۔ جتنی زیادہ بحث آپ کرتے ہیں اتنے تنازعات کھڑے ہوتے ہیں۔ جنرل صاحب، بس ڈیم بنادیجئے۔۔۔۔

دانش احمد، نیویارک:
ڈیم کا صحیح معنی جاننے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں لوگ غیریافتہ ہیں۔ انہیں ڈیم کا معنی اور اس کی اہمیت نہیں معلوم ہے۔ یہی مسئلہ ہے۔ سیاست دانوں نے ڈیم کا معنی خراب کررکھا ہے۔

جادل منگی، گھوٹکی:
اصل مسئلہ ڈیم یا پانی کا نہیں ہے۔ یہ مسئلہ ہے کہ بلوچوں، سندھیوں اور پٹھانوں پر کیسے غلبہ حاصل کیا جائے۔ ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور ڈیم کی مخالفت کرتے رہیں گے۔۔۔۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ:
ایک ایسے ڈیم کی بات کررہے ہیں جس پر تین صوبوں کے اعتراضات ہیں اور عوامی مخالفت بھی، اور حالیہ بارشوں میں چھوٹے ڈیم ٹوٹ گئے تو اس ڈیم کی کیا ضمانت ہے کہ یہ صحیح ہوں گے، اور یہ ڈیم کسی فرد واحد کے لئے نہیں بنتے۔۔۔۔

پانی پاکستان کے لئے
 پانی کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں پانی کی ضرورت بجلی اور کاشتکاری کے لئے اور پینے کے لئے ضروری ہے۔ اگر ہم ڈیم نہیں بناتے ہیں تو آنے والی نسلیں پانی کے لئے لڑیں گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پانی صرف ایک صوبے کے لئے مسئلہ نہیں، پورے پاکستان کو پانی چاہئے۔
محمد فیصل جمال، چکوال

محمد فیصل جمال، چکوال:
ہر شخص کے لئے پانی ضروری ہے۔ پاکستان کے لئے پانی جمع کرنے کے لئے ڈیم کی ضرورت ہے۔ اگر ہم پانی جمع کرنے کے لئے ڈیم نہیں بناتے ہیں تو پانی کی قیمت ڈیژل اور پیٹرول سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔ پانی کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں پانی کی ضرورت بجلی اور کاشتکاری کے لئے اور پینے کے لئے ضروری ہے۔ اگر ہم ڈیم نہیں بناتے ہیں تو آنے والی نسلیں پانی کے لئے لڑیں گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پانی صرف ایک صوبے کے لئے مسئلہ نہیں، پورے پاکستان کو پانی چاہئے۔

شکیل شہزاد، پاکستان:
میری رائے یہ ہے کہ ڈیم بننا چاہئے کیوں کہ یہ مستقبل میں پاکستان کے لئے اچھا ہوگا۔۔۔۔

راشد میمن، نیوجرسی:
کالا باغ ڈیم کا مسئلہ پانی کا ہے۔ اگر حکومت عوام کو سمجھاسکتی ہے کہ وہ ڈیم سے کئی دریا نکالے گی تو سندھ کے عوام راضی ہوجائیں گے۔ لیکن حکومت نے پہلےہی دریا بنانے کا منصوبہ بنایا ہے لیکن اگر یہ منصوبہ ملٹری بناتی ہے تو خدا پاکستان کی خیر کرے۔۔۔
غلام رسول بھگت، میرپور خاص:
مجھے لگتا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے درمیان پانی کی جنگ ہوگی۔ انشاء اللہ سندھ کامیاب ہوگا۔ پنجابی۔۔۔۔

ذیشان حیدر، جرمنی:
کالاباغ ڈیم کے لئے چاروں صوبوں کے تکنیکی ماہرین کو بٹھائیں اور اس پر فیصلہ کریں۔ اس کے بعد ہی ڈیم بنانے کا فیصلہ ہو۔
غریب جالبانی، سہوان شریف:
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں پانی کا مسئلہ ڈیم بناکر حل کیا جاسکتا ہے وہ بیوقوف ہیں۔ آپ پانی کے مسئلے کا حل انصاف کرکے کرسکتے ہیں۔

طارق محمود، سرگودھا
ڈیم مخالف طبقے نے اس مسئلے کو اتنا الجھا دیا ہے کہ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ڈیم شروع ہوا تو نہ جانے کیا ہو جائے گا۔حکومت میں بھی کچھ ایسی طاقتیں ہیں جو نہیں چاہتیں کہ ڈیم بنے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عام پاکستانی کو بتائے کہ یہ ڈیم کیوں ضروری ہے۔

سرفراز، ٹنڈو جام
ڈیم ہماری ضرورت ہیں اور ان کو ضرور بننا چاہیے۔ اگر ڈیم نہیں بنے تو ہم بجلی اور پانی سے محروم ہو جائیں گے۔

یحییٰ، نواب شاہ
کالاباغ ڈیم کا مسئلہ پاکستان کو تباہ کر سکتا ہے۔ کیا ہم اسے پاکستان کی سالمیت کے لیے ترک نہیں کر سکتے؟

عمران ملک، لاہور
پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں غلط لوگ غلط فیصلے کرتے ہیں۔ کالا باغ ایک تکنیکی مسئلہ ہے مگر اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ کالا باغ کے مخالفین مستقبل میں پانی کو ترسیں گے۔

عمر حجام، ڈھیرکی
پنجاب نہ جانے کیوں بچگانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے؟

واحد حل، کالا باغ ڈیم
 پانی کے مسئلے کا واحد حل صرف اور صرف کالا باغ ڈیم ہے۔ اب مزید دیر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گی۔ اس مسئلے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے
سعید احمد، جاپان

مراد، حیدرآباد
سندھ میں پانی کی کمی خطرناک صورت اختیار کر گئی ہے لیکن ہمارے سیاست دان اس مسئلے پر اپنی دکان چمکانے میں مصروف ہیں۔

نواز ملک، قطر
اگر یہ ڈیم ملک کے لیے ضروری ہے تو اسے بنا تاخیر کے بن جانا چاہیے۔

ریحان وحید، کینیڈا
حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیم کے نقشے اور اس کے نقصانات و فوائد عام فہم زبان میں ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کرے۔ماہرین بھی اس پر اپنی رائے دیں۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

محمد اشفاق الرٰحمن، ٹوبہ ٹیک سنگھ
پاکستان میں پانی کا مسئلہ بہت زیادہ ہے اور نئے ڈیموں کی ضرورت ہے۔ اگر ان کی تعمیر نہ کی گئی تو آبپاشی اور بجلی جیسے مسائل سر اٹھانے لگیں گے۔

جان محمد بھٹو، شکار پور
کالا باغ ڈیم پنجاب کو خوش کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔ اور ہم اس سے سندھ اور سرحد کو تباہ کن نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔

عامر احسن خان، اٹک
جب ہم پہلے سے موجود ڈیم ہی نہیں بھر پاتے تو نئے ڈیم کی ضرورت ہی کیا ہے اور مصیبت جس پر آتی ہے وہی جانتا ہے۔ غازی بروتھا پراجیکٹ نے جس طرح ہم لوگوں کو متاثر کیا ہے یہ ہم ہی جانتے ہیں۔

منظور احمد، گنگا چھوٹی
پانی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے مزید ڈیم بنانے کی ضرورت ہے اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

غلام فرید شیخ، گمبٹ
مسئلہ پانی کا نہیں ہے بلکہ اس کی تقسیم کا ہے۔ پاکستان میں پانی ہے لیکن صحیح طرح سے تقسیم نہیں ہوتا۔جہاں تک ڈیم کا تعلق ہے تو صرف وہی ڈیم بننے چاہییں جو کہ سب کو قابلِ قبول ہوں۔

احسن خان، چین
مستقبل قریب میں پانی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہوگا اس لیے حکومتِ پاکستان کو کالا باغ جیسے بڑے ڈیم تعمیر کرنے چاہییں اور تمام پاکستانیوں کو اس معاملے پر حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

امتیاز احمد،اسلام آباد
پانی پاکستان کے ہر علاقے کی ضرورت ہے۔ سندھ کو نئے ڈیموں کی ضرورت ہے اور اس میں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔

سعید احمد بیگانہ، جاپان
پانی کے مسئلے کا واحد حل صرف اور صرف کالا باغ ڈیم ہے۔ اب مزید دیر اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گی۔ اس مسئلے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

مسئلہ پانی کا نہیں۔۔۔۔
 مسئلہ پانی کا نہیں ہے بلکہ اس کی تقسیم کا ہے۔ پاکستان میں پانی ہے لیکن صحیح طرح سے تقسیم نہیں ہوتا
غلام فرید شیخ، گمبٹ

گل انقلابی، دادو
دریائے سندھ کا پانی سندھ کے عوام کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ سندھ کے ساتھ گزشتہ ستاون برس میں ایک کالونی سے بھی بدتر سلوک کیا گیا ہے۔ سندھ پاکستان کا ستر فیصد سے زیادہ ریونیو پیدا کرتا ہے لیکن بدلے میں اسے سوائے تسلیوں کے کچھ نہیں ملتا۔

آصف علی، ٹنڈو محمد خان
ڈیم کی تعمیر سے سندھ کا زرعی نظام بری طرح متاثر ہوگا اور عوام بھوکے مر جائیں گے۔

جمن حلائی، ہالہ
کالاباغ ڈیم اور تھل کینال سندھ کو پانی کے آخری قطرے سے محروم کرنے کی سازش ہے۔سندھیوں کو یہ ڈیم اور یہ نہر منظور نہیں۔

بیجل جونیجو، لاڑکانہ
سندھ اور کالاباغ ڈیم ساتھ نہیں چل سکتے۔

بی بی سی سنگتبی بی سی سنگت
حیدرآباد میں بی بی سی کا پہلا شو بدھ کو ہو رہا ہے
بی بی سی سنگت
بی بی سی اردو کے میزبان آپکی کی دہلیز پر
ہٹن رپورٹ اور بی بی سی آپ کی رائے
ہٹن رپورٹ اور بی بی سی کے بارے میں آپ کی رائے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد