حیدر آباد میں بی بی سی کا پہلا شو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں بی بی سی اپنے سامعین کے ساتھ ملاقات کے سلسلے میں چلائی جانے والی سنگت نامی مہم ’ کہیں آپ، سنیں ہم‘ کا پہلا شو بدھ کو منعقد ہو رہا ہے۔ یہ شو حیدرآباد شہر کے وسط میں واقع سندھ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں ہو رہا ہے۔ پورے شہر میں ایک میلے کا ساماں نظر آ رہا ہے۔شہر بھر کے تمام چوراہوں اور بڑی بڑی سڑکوں پر بی بی سی کے بینر لگے نظر آ رہے ہیں اور بی بی سی کے سامعین کو اس شو کی دعوت دینے کے لیے گاڑیوں کے ذریعے اعلانات ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کے تین مصروف ترین مقامات پر سٹال لگائے گئے ہیں۔ بی بی سی کے ان سٹالوں پر سینکڑوں لوگ آرہے ہیں۔ جس سے یہ امید کی جارہی ہے کے سینکڑوں لوگ بی بی سی کے اس پہلے شو میں آئیں گے۔
بی بی سی کے مشہور براڈکاسٹر اور نامہ نگار اس وقت یہاں موجود ہیں، جن میں رضاعلی عابدی، شفیع نقی جامعی، ماہ پارہ صفدر، شاہ زیب جیلانی اور ظفر عباس شامل ہیں۔ آج کے اس بی بی سی شو کا مرکزی موضوع ’پانی کے وسائل اور بڑے ڈیم‘ ہے اس موضوع پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالنے کے لیے ماہی گیروں کے نمائندے عارب ملاج، آباد کار اور زرعی ماہرمحمود نواز شاہ ، ادیب نورالھدی، چیف انجینر واپڈا واٹرعبدالرحمٰن لغاری، اورسابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام بشیر چانڈیو شامل ہیں۔ دریائے سندھ میں جس طرح سے پانی کم ہو رہا ہے، پانی پاکستان اور خاص طور پر سندھ کا اہم مسلئہ ہے۔ جس کی وجہ سے یہ توقع بھی کی جارہی ہے کہ بی بی سی کے سامعین کی ایک بڑی تعداد کھل کر اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرے گی۔ بی بی سی کے ایک سامع ریاض حیسن کا کہنا تھا کہ ایسے موقعے بار بار نہیں آتے اس لیے وہ ضرور اپنی رائے کے اظہار کے لیے بی بی سی کے اس شو میں جائیں گے۔ یہاں سے بی بی سی کی اگلی منزل خیر پور ہو گی، جہاں بڑا موضوع ’میڈیا اور کلچر‘ ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||