BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 April, 2005, 16:50 GMT 21:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نانگا پربت: جنگلات اور مقامی مسائل

ہرمن بہل نے انیس سو ترپن میں ننگا پربت پر چڑھنے میں پہلی کامیابی حاصل کی تھی
ہرمن بہل نے انیس سو ترپن میں ننگا پربت پر چڑھنے میں پہلی کامیابی حاصل کی تھی
میں شمالی علاقہ جات میں نانگا پربت کے علاقے کے مسائل کے بارے میں پاکستانی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ دلانا چاہوں گا۔ یہاں روپل، تریشنگ، زیپور اور چورِت کے دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔

پہلا مسئلہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہے جو کہ زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ صرف ننگا پربت کے علاقے ہی میں نہیں بلکہ تمام شمالی علاقہ جات میں شاید ہی کہیں بجلی ہے جس کی وجہ سے لوگ اس علاقے کی لکڑیاں ایندھن کے لئے استعمال کررہے ہیں جس کا ماحولیات پر اثر پڑرہا ہے۔

حکومتی ادارے توجہ نہیں دےرہے ہیں۔ لکڑی ختم ہورہی ہے کیوں کہ مقامی لوگوں کے پاس دوسرے وسائل نہیں ہیں، وہ درخت نہیں لگاسکتے، بلکہ درخت لگانے کے بارے میں لوگ سوچتے بھی نہیں۔ نتیجے میں جنگلات ختم ہوتے جارہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ اگر بین الاقوامی اداروں اور پاکستانی حکومت نے بجلی کی فراہمی اور درخت لگانے پر توجہ نہ دی تو آئندہ بیس پچیس برسوں کے اندر یہاں ایندھن کے لئے کچھ نہ ہوگا۔ یہاں کے لوگوں کے لئے اس برفانی علاقے میں زندگی بسر کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

اس وقت میری عمر پچیس سال ہے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تھا اس وقت چاروں طرف جنگل ہی جنگل تھے۔ پہلے میں آدھے ایک گھنٹے کی کوشش میں دو دن کی ضرورت کے لئے لکڑیاں اکٹھا کرلیتا تھا اور اب پورے دن کی کوشش کے باوجود چند گھنٹوں کی ضرورت کے لئے لکڑی نہیں ملتی۔ مقامی لوگوں کے پاس لکڑی کے علاوہ ایندھن کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

غالبا جنگلات کے ختم ہونے کی وجہ سے ہی یہاں جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ دنیا کے سب سے اچھے مارخور (ibex) ، رام چور، تیتر، بٹیر، بوڑھے ریچھ وغیرہ کی تعداد بڑی تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ ان کا ذریعہ معاش ختم ہوتا جارہا ہے۔
ان مسائل کو قومی سطح پر نہیں اٹھایا جاتا اور نہ ہی بین الاقوامی اداروں کی توجہ اس جانب ہے۔ یہاں کے لوگ گورنمنٹ آف پاکستان سے ان مسائل پر زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کے نمائندے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نہیں ہیں ورنہ شاید ان مسائل پر حکومت کی نظر ضرور ہوتی۔ اس علاقے کو صوبائی درجہ دینے کا بھی مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

چند برسوں پہلے شمالی علاقہ جات قانون ساز اسمبلی بنی تھی جس میں منتخب نمائندے اور غیرمنتخب ٹیکنوکریٹس ہیں لیکن وہ مقامی مسائل کو قومی سطح پر اٹھانے میں اتنا مؤثر نہیں ہیں جتنا ہونا چاہئے۔ اگرچہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کچھ ترقیاتی کام ہوئے ہیں تاہم قومی حکومت اور بین الاقوامی اداروں کو اس علاقے میں بجلی کی فراہمی اور درخت لگانے پر توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنےمسائل کے بارے میں یا کسی موضوع پر دلائل کے ساتھ کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
ویلنٹائن ڈے: جدید دور کا تہوار؟میری رائے
ویلنٹائن ڈے: جدید دور کا تہوار؟
ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکی کی آپ بیتیرملہ سے براہ راست
ایک سترہ سالہ فلسطینی لڑکی کی آپ بیتی
مغرب کی خاتون یا مشرق کی؟آٹھ مارچ: یوم خواتین
میرا صفحہ: مغرب کی خاتون یا مشرق کی؟
ڈیرہ بگٹی سے ایک لڑکے کا خطپڑھائی کا کیا ہوگا؟
ڈیرہ بگٹی سے ایک لڑکے کا خط
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد