میرا صفحہ: مغرب کی خاتون یا مشرق کی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اگست انیس سو اٹھانوے سے برطانیہ میں رہ رہی ہوں اور جو اہم فرق ایک پاکستانی خاتون اور ایک مغربی خاتون میں دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے یہاں کے معاشرے میں خواتین زیادہ آزاد ہیں۔ مغرب کے معاشرے میں ایک عورت کو مواقع زیادہ ہیں۔ وہ چاہے تو دن یا رات کی نوکری کرسکتی ہے، وہ زیادہ آزاد ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں مغربی ممالک میں عورت پر زیادہ بوجھ ہے۔ پاکستان میں آپ بچوں کو گھر پر چھوڑ کر کسی کام کے لئے باہر جاسکتی ہیں، مثال کے طور پر بِل جمع کرانے کے لئے جانا پڑے۔ لیکن یہاں بچوں کو ساتھ لے جانا پڑتا ہے، عورت پر اسٹریس (ذہنی دباؤ) زیادہ ہے۔ عورت کو پاکستان میں آدمیوں سے، باپ یا بھائی یا شوہر سے، کچھ کرنے کے لئے اجازت لینی پڑتی ہے۔ عورت کہیں دور نہیں جاسکتی، شہر سے باہر نہیں جاسکتی۔ یہاں جہاں مرضی ہو جائیں، اکیلے یورپ کے کسی شہر کا سفر کرسکتی ہیں، خود فیصلہ کرسکتی ہیں۔ مغرب میں عورت کو زیادہ ذہنی آزادی ہے۔ زیادہ آزادی ہونے کی وجہ سے مغرب میں نقصانات بھی زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر طلاق کے واقعات زیادہ ہیں۔ میں نہیں سمجھتی کہ مکمل مساوات ممکن ہے۔ پاکستان کے معاشرے میں خواتین کو حقوق نہیں ملتے، آپ کسی کو کچھ منع نہیں کرسکتیں۔ ہم پاکستان میں ایک فیملی کی حیثیت سے سوچتے ہیں، لیکن یہاں آزاد خیال ہیں۔ یہاں کچھ کرنے کے لئے خواتین پر کوئی حدود نہیں ہیں، تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں، کسی بھی عمر میں کوئی نیا کام کرسکتی ہیں، عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ پاکستان میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ مجموعی طور پر مغرب میں خواتین کو اتنے مواقع ہیں،اتنی آزادی ہے کہ وہ خود کو بہتر بناسکتی ہیں۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنےمسائل کے بارے میں یا کسی موضوع پر دلائل کے ساتھ کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||