سنگت: خیر پور میرس سے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خیر پور میرس کی ریاست کے دور میں تعمیر ہونے والے ناز ہائی سکول کے احاطے میں بی بی سی سنگت کے تحت الیکٹرونک میڈیا کے کلچر پر اثرات کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ موضوع پرگفتگو کرتے ہوئے مصنف اور براڈ کاسٹر مختار ملک کا کہنا تھا کہ تہذیب دریا ہے اور کلچر اس کی ایک لہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کے الیکٹرونک میڈیا نے لوگوں سے کچھ چھین لیا ہے۔تہدیب اور کلچر بدستور روایات کے مطابق جاری ہے۔ اچھی چیزیں کلچر کا حصہ ضرور بنی ہیں لیکن ہماری نظر ان بری چیزوں پر ہوتی ہے جو تھوڑی سے ہوتی ہیں‘۔ عالمِ دین فخر الحسنین محمدی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہماری ثقافت کا بنیادی عنصر دین اور مذہب ہے۔ ثقافت کا مطلب ہے کہ جو آپ کرنے جا رہے ہیں اس کے پسِ پردہ کون سی چیزیں ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الیکٹرونک میڈیا کو سراسر بند کر دیا جائے لیکن ایک بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پابندی زندگی کا حسن ہے‘۔ مقامی صحافی ناہید نے اس موقع پر کہا کہ میڈیا بذاتِ خود بری چیز نہیں بلکہ یہ تو اسے دیکھنے والے پر منحصر ہے ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ یہ میڈیا کا غلط پہلو ہے بلکہ یہ تو دیکھنے والے کے ذہن کا قصور ہے۔ خیر پور میرس کے ممتاز وکیل شبیر شر نے کہا کہ ’ہمارے علماء کو اس بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا عریانی کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کہ میڈیا صرف عریانی میں اضافہ کر رہا ہے‘۔ اس موقع پر شائقین نے بھی سوالات کیے جس کے جوابات پینل میں موجود افراد نے دیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||