میرا صفحہ: ڈیپریشن کا علاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیپریشن خود کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ڈیپریشن یا ٹینشن بہت سے مسئلوں کا مجموعہ ہے۔ جو غور طلب بات ہے وہ یہ ہے کہ کسی مسئلے سے ہماری ذات اور فکریات کتنی حد تک منسلک ہیں۔ اگر کوئی بات ہمارے ذہن کو منتشر کرتی ہے تو آسان حل فی الحال یہ ہوگا کہ ہم اس بارے میں نہ سوچیں، بلکہ جس وقت ہم نارمل ہوں تو تنہائی میں بیٹھ کر اس کا بھرپور طریقے سے جائزہ لیں کہ آخر شروعات کہاں سے ہوئی، کوئی نہ کوئی نقطہ ضرور ملے گا۔ اور اگر پھر بھی کوئی حل نہ ملے تو کسی سے مشورہ طلب کریں جس پر ہمیں بھرپور اعتماد ہو۔ ڈیپریشن یا ٹینشن انسانی جذبات، اہلیت اور شخصیت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ اس کا کوئی علاج نہیں کیوں کہ یہ کوئی بیماری نہیں۔ یہ ایسی انسانی حالت ہے جس میں انسان خود کو معمول کے حالات سے الگ کرلیتا ہے اور اس کے لب و لہجے اور رویے میں تبدیلی آجاتی ہے۔ لیکن یہ کوئی زیادہ تشویشناک بات اس لئے نہیں کہ اگر متاثرہ شخص سے بات چیت کی جائے تو ممکن ہے کہ گفتگو کے دوران ہی اس کا ڈیپریشن ختم ہوجائے۔ انسان فطری طور پر یکسانیت کا قائل نہیں ہے اور ہمیشہ سے تبدیلی کا خواہش مند رہا ہے۔ انسان کے دماغ میں سوچ ہمیشہ مشاہدے یعنی دیکھنے، سننے اور حالات کے پیش نظر پیدا ہوتی ہے۔ لہذا جب بھی انسان کو ضرورت محسوس ہوئی اس نے اپنی سہولت کے لئے کوئی نہ کوئی چیز ایجاد لی۔۔۔۔ اب ظاہر ہے کہ انسان جن سہولیات کا ایک بار عادی ہوجائے تو اسے شدت سے اس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ جہاں تک سمجھ بوجھ کا تعلق ہے تو ہمیں جتنی آگاہی ہوتی ہے ہمارے ذہن میں ان کے بارے میں مزید سوچیں جنم لیتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ وہ آگاہی ہمارے ساتھ کتنی حد تک مسنلک ہے اور اگر ہم ان کا حل تلاش نہیں کرسکتے تو بہتر یہی ہوگا کہ ہم یا تو اسے بھلا دیں یا پھر کسی سے رجوع کرلیں۔ موسم کی تبدیلی بھی انسان کے رویے میں تبدیلی لاتی ہے۔ اگر ماضی میں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا ہوتا ہے تو خوشگوار ماحول بھی ناخوشگوار لگتا ہے۔ لیکن انسان میں ایک بہت بڑی صلاحیت ہے کہ وہ اپنے رویے سے حالات کو سازگار بنالیتا ہے اور بگاڑ بھی دیتا ہے۔۔۔۔ ہم افسردہ حالات میں اپنے اندر تبدیلی لاکر حالات کو خوشگوار ماحول میں تبدیل کرسکتے ہیں اور ممکن ہے کہ ہمارے رویے سے کسی کا ٹینشن ہمیشہ کے لئے دور ہوجائے۔ ہمیں حسب ذیل باتوں پر توجہ دینی چاہئے۔ ایک، کسی بھی انسان کو بہتر طور پر جاننے اور سمجھنے کی لگن۔ دو، چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں مثبت اور اچھا تصور رکھنا۔ تین، غیرضروری توقعات کو چھوڑ کر اپنی جو بھی توقعات ہوں دوسروں پر واضح کرنا۔ چار، پختہ ارادہ رکھنا۔ پانچ، اپنی ذاتی دیانت داری، سچائی اور خلوص دوسروں پر واضح کرنا۔ چھ، اور اپنی زندگی اور محبت کے درمیان ہم آہنگی اور مضبوط اور جائز اصول بنانا۔ یہ تمام نکات ایک کامیاب اور سلجھے ہوئے انسان بننے میں ہماری معاون بنتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اگر یہ تمام باتیں ایک انسان اختیار کرلے اور طبیعت میں ڈال لے تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ کبھی ڈیپریشن یا ٹینش جیسے دماغی امراض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت آپ اگر کسی بھی موضوع پر کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||