میرا صفحہ:’ہمیں بات کرنی چاہیے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے لیے یہ خبر انتہائی افسوسناک تھی کہ لاہور ہائی کورٹ نے مختاراں مائی کے کیس میں پانچ لوگوں کو برّی اور ایک شخص کو دی جانے والی موت کی سز منسوخ کردی ہے۔ اس مقدمے پر دنیا بھر کی نظریں لگی تھیں۔ یہاں پیدا ہونے والے سوالات میں ایک یہ سوال بھی مجھے پریشان کرتا ہے کہ اس فیصلے سے پوری دنیا کو کیا پیغام دینا ملا ہوگا؟ بہرحال دنیا کے کونے کونے تک اس کیس کی شہرت ہے۔ درحقیقت اس مقدمے کی شہرت ہی کی وجہ سے عدالت بیدار ہوگئی تھی اور اس نے مختصر ترین وقت میں اس جرم کے مبینہ طور پر مرتکب افراد کو سخت ترین سزا دی تھی۔ تاہم اب اعلیٰ عدالت کے فیصلے سے مختاراں مائی کی قسمت پنچایت کے فیصلے ہی کی سزاوار ٹہری ہے۔ پاکستان میں ہوسکتا ہے کہ ہم اس حالیہ فیصلے پر زیادہ بات نہ کرسکیں یا کرنا چاہیں کہ کہیں ہم توہینِ عدالت کے مرتکب نہ ہوجائیں۔ تاہم اس وقت عالمی میڈیا اور انٹرنیٹ سائٹس دھڑا دھڑ اس فیصلے کو اچھال رہی ہیں۔
ہمیں اس طرح کے فیصلوں پر بات کرنی چاہیے۔ کیونکہ جو فیصلے ایک دفعہ جاری کردیئے جاتے ہیں وہ مفادِ عامہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عوام کو ان تمام فیصلوں پر عمومی طور پر ان کے اندرنی اور بیرونی عوامل اور خوبیوں اور خامیوں پر بحث و مباحثہ کرنا چاہیے خاص طور پر ایسے فیصلے جن کا تعلق مفادِ عامہ سے ہو۔ ایسے فیصلوں پر ہونے والی پبلک ڈبیٹس ہی یقینی بناسکتی ہیں کہ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد سزا پائیں اور فیصلہ کرنے والے فیصلہ جاری کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں ورنہ ہم انصاف کا مذاق اڑاتے رہیں گے اور مجرم پیشہ افراد کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ کچھ اور سوالات جو اٹھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ اس جرم کا شکار ہونے والی مختاراں مائی کی ذہنی حالت اس وقت کیا ہوگی؟ اس کے اور اس کے خاندان کو کس حد تک تحفظ مل پائے گا؟ اور ہوسکتا ہے کہ ہم سب کو اس سے غرص نہ ہو لیکن کچھ کو ضرور یہ سوچنا چاہیے کہ بیرونی طور پر پاکستان کا امیج ایک بار پھر اس بری طرح مسخ ہوگا کہ بعد میں ’روشن خیالی اور مفاہمت‘ کی کوئی کوشش اسے بحال نہ کر پائے گی۔ نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر ’آپ کی آواز‘ کے تحت اگر آپ اپنےمسائل کے بارے میں یا کسی موضوع پر دلائل کے ساتھ کچھ لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||