منشیات پر بش کی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں پوست کی کاشت میں اضافے پر امریکی صدر جارج بش نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حامد کرزئی کی حکومت افغانستان کے مختلف صوبوں میں منشیات پر کنٹرول حاصل کرنے کی ’اہلیت‘ نہیں رکھتی۔ صدر بش نے افغانستان میں اگلے ماہ کے انتخابات کے پیش نظر ہونیوالی جمہوری تبدیلیوں کو دہشت گردی مخالف امریکی جنگ میں ایک کامیابی قرار دیا۔ افغانستان ان بائیس ممالک میں سے ہے جنہیں صدر بش نے منشیات پیدا کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ ان بائیس ممالک میں سے چودہ ممالک لاطینی امریکہ اور کیریبین سے تعلق رکھتے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ پوست کی کاشت میں کمی ہونے کی وجہ سے اس فہرست سے تھائی لینڈ کا نام نکالا جارہا ہے۔ کینیڈا اس فہرست میں نہیں ہے تاہم صدر بش نے کینیڈا کی حکومت پر تنقید کیا کہ وہ چرس کی خرید و فروخت کرنے والوں سے سختی سے نہیں پیش آرہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق جنوبی امریکہ اور میکسیکو اور کینیڈا کی جانب سے امریکہ میں منشیات سمگل کی جاتی ہے۔ ہیٹی بائیس ممالک کی فہرست میں ہے تاہم صدر بش نے منشیات مخالف کارروائیوں کے لئے وہاں کی حکومت کی تعریف کی۔ امریکہ جن ممالک کو منشیات کی پیداوار اور سمنگلنگ میں ’اہم‘ قرار دیتا ہے ان کے خلاف پابندیاں عائد کی جاتی ہیں لیکن اس سال صدر بش کی انتظامیہ اس طرح کی پابندی عائد کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہی ہے۔ اس سال اقوام متحدہ نے جو اعداد و شمار جاری کیے تھے ان کے مطابق دنیا میں پوست کی پچہتر فیصد پیداوار افغانستان میں ہوتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||