| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان: منشیات فروشوں سے خطرہ
منشیات اور جرائم کی روک تھام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی کا کہنا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ افغانستان ایک ناکام ملک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق اگر ایسا ہوتا ہے تو اس مرتبہ افغانستان کو ناکام کرنے والے لوگ منشیات کے سمگلر اور جرائم پیشہ افراد ہوں گے۔ ایک تخمینے کے مطابق افغانستان میں منشیات کی پیداوار میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ ہوا ہے جس سے یہ دنیا میں غیر قانونی طور پر افیم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ یو این او ڈی سی کے مطابق افغانستان میں ہر سال تقریباً تیس ارب ڈالر مالیت کی منشیات پیدا کی جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس ادارے کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ حامد کرزئی کی حکومت نے منشیات کی پیداوار پر قابو پانے کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں لیکن اب بعض نئے علاقوں میں افیم کی کاشت شروع ہو گئی ہے۔ ادارے کے مطابق افغانستان کے بتیس صوبوں میں سے اٹھائیس میں اس وقت افیم کی کاشت کی جا رہی ہے۔ ایجنسی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات کی روک تھام کے لئے افغانستان کو اس وقت بین الاقوامی امداد کی اشد ضرورت ہے ۔ دریں اثناء تاجکستان سے متصل افغان سرحد پر مامور سیکیوریٹی دستوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ماہ افعانستان کےغیر قانونی تاجروں سے آٹھ ٹن منشیات ضبط کی ہیں۔ شمالی افغانستان سے بیرون ملک برآمد کی جانے والی افیم کا ایک بڑا حصہ تاجکستان کے راستے جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||