BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں مچھیروں کے مسائل

ہمارے لئے کنٹریکٹ سے بہتر لائسنس کا نظام ہے: مچھیرے
ہمارے لئے کنٹریکٹ سے بہتر لائسنس کا نظام ہے: مچھیرے
سندھ حکومت کے فیشریز ڈپارٹمنٹ نے صوبے میں سولہ مئی سے مچھلی پکڑنے کے حقوق کی نیلامی شروع کردی ہے۔ لیکن اس سے پہلے نیلامی کی تاریخ تین بار معطل کرنی پڑی تھی کیوں کہ مقامی مچھیرے کنٹریکٹ سسٹم کی مخالفت کررہے تھے۔

مقامی مچھیروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت مچھلی پکڑنے کے ان کے حقوق کا اعتراف کرے اور انہیں مناسب فیس کے بدلے میں لائسنس فراہم کرے۔ مقامی مچھیروں کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ سسٹم کے تحت ان کا استحصال ہوتا ہے۔ اس لئے وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومتی کنٹریکٹروں کو مچھلی فروخت کرنے کے لئے انہیں مجبور نہ کیا جائے۔ اپنی آواز اٹھانے کے لئے سندھ میں کئی مقامات پر مچھیرے مظاہرے کرتے رہے ہیں، بالخصوص ان دفاتر کے سامنے جہاں ماہی گیری کے کنٹریکٹ کی نیلامی ہوتی ہے۔

سندھ کی حکومت نے مچھیروں کے مظاہروں کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ مچھیروں کے نمائندہ ادارے پاکستان فیشرفولک فارم کے پانچ نمائندوں کو سولہ مئی کو گرفتار کرلیا گیا جن میں چیئرمین محمد علی شاہ، سمیع میمن، جمال مصطفیٰ شورو، اللہ دینا ملا اور محمد شامل ہیں۔ جب انہیں گرفتار کیا گیا وہ فیشریز ڈپارٹمنٹ کے سامنے پرامن مظاہرہ کررہے تھے۔

بعد میں ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کیا گیا لیکن مقامی عدالت نے ضمانت دیدی ہے۔ تاہم حکومت نے انہیں رہا نہیں کیا اور مینٹیننس آف پبلِک آرڈر کے تحت تیس دنوں کے لئے انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔ دس خواتین سمیت تیس مچھیروں کو بدین سے بھی گرفتار کیا گیا ہے اس لئے کہ وہ کنٹریکٹ سسٹم اور اپنے نمائندوں کی گرفتاری کی مخالفت کررہے تھے۔

مچھیروں کے حالات بہت برے ہیں
 پورے سندھ میں مچھیروں کے حالات بہت برے ہیں۔ آلودگی، تازہ پانی کی کمی، قیمتوں میں اضافے وغیرے کی وجہ سے مچھیروں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ساحلی علاقوں میں لوگوں کو پینے کا پانی خریدنا پڑتا ہے کیوں کہ بدین اور ٹھٹہ ضلعوں کے انڈس ڈیلٹا میں ’میٹھا پانی’ دستیاب نہیں ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پورے سندھ میں مچھیروں کے حالات بہت برے ہیں۔ آلودگی، تازہ پانی کی کمی، قیمتوں میں اضافے وغیرے کی وجہ سے مچھیروں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ساحلی علاقوں میں لوگوں کو پینے کا پانی خریدنا پڑتا ہے کیوں کہ بدین اور ٹھٹہ ضلعوں کے انڈس ڈیلٹا میں ’میٹھا پانی’ دستیاب نہیں ہے۔ وہ مچھیرے بھی جو جھیلوں سے مچھلی پکڑتے ہیں مشکلات کا شکار ہیں۔ پاکستان کی دو بڑی منچھر اور کینجھر جھیلوں میں صحت اور تعلیم کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ منچھر جھیل میں ملک کے بالائی علاقوں سے آنیوالے کیمیکل، فرٹیلائزر، آلودہ اور زہریلے پانی وغیرہ کی وجہ سے مچھیروں کی زندگی عذاب بن گئی ہے۔ اس جھیل کا پانی زہریلا ہوگیا ہے اور مچھلیاں کم ہی رہ گئی ہیں۔دریائے سندھ کے ساحل پر بسنے والے مچھیروں کو بھی ان ہی حالات کا سامنا ہے کیوں کہ سکھر بیراج کے پاس اس دریا میں پانی نہیں ہے۔ پورے سال کوٹری بیراج سے پانی کی ایک بوند بھی ریلیز نہیں کی جاتی ہے۔

ان وجوہات کی وجہ سے مچھیرے سمجھتے ہیں کہ کنٹریکٹ سسٹم مچھلی پکڑنے کے ان کے پیدائشی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ماضی میں بھی کنٹریکٹ سیسٹم ناکام رہا ہے اور کنٹریکٹروں کی وجہ سے غریب مچھیروں کو مسائل کا سامنا رہا ہے۔ کنٹریکٹر مچھلیوں کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے بھی کم دیتے ہیں جس کی وجہ سے مچھیروں اور ان کے درمیان تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ فیشریز ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کی وجہ سے بھی حکومتی آمدنی میں نقصان ہوتا ہے کیوں کہ ایک کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لئے لاکھوں کی رشوت دینی پڑتی ہے۔ صرف امیر افراد کو ہی کنٹریکٹ دیا جاتا ہے۔

جبکہ لائسنس سسٹم منچھر جھیل میں نافذ کیا گیا تھا لیکن فیشریز ڈپارٹمنٹ کے ملازمین نے کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ملازمین نے مچھیروں سے ملنے والی فیس ڈپارٹمنٹ کو نہیں دی اور اعلی حکام کو بتایا کہ مچھیروں سے فیس وصول کرنے کی شرح کم ہے۔ ایسے مسائل کی وجہ سے کنٹریکٹ سیسٹم لایا گیا ہے تاکہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو۔

حکومت سندھ فیشریز آرڈیننس انیس سو اسی کے سیکشن تین اور سندھ فیشریز رولز انیس سو تراسی کے تحت فیشِنگ گراؤنڈز کی نیلامی کرتی ہے۔ انیس سو ستتر میں سندھ حکومت نے سندھ کے پانچ علاقوں میں منچھر جھیل، کینجھر جھیل اور سنگار ڈسٹرکٹ، سندھ دھورو اور انڈس سے منسلک فیشنگ گراؤنڈز کے لئے کنٹریکٹ سسٹم ختم کردیا تھا۔ حکومت نے یہاں لائسنس کا نظام لایا تاکہ مچھیروں کی زندگی بہتر ہوسکے اور مڈل مین کے رول کا خاتمہ ہو۔

حکومت وعدے سے پھرگئی
 پاکستان فیشرفولک فارم کنٹریکٹ سسٹم کی مخالف کررہا ہے اور مناسب فیس کے بدلے میں حقیقی مچھیروں کو لائسنس دینے کے حق میں ہے۔ سندھ کی موجودہ حکومت کنٹریکٹ سسٹم کے خاتمے پر راضی ہوگئی تھی۔ لیکن حکومت اپنے اس وعدے سے پھر ہوگئی ہے۔

حکومت مقامی مچھیروں کو کچھ فیس کے بدلے لائسنس دیتی رہی ہے۔ بلکہ کبھی کبھی حکومت نے مچھیروں کو بغیر فیس کے بھی مچھلی پکڑنے کی اجازت دی۔ انیس سو بانوے ترانوے کے بجٹ میں سندھ کے وزیر خزانہ لیاقت علی جتوئی نے منچھر جھیل سے مچھلی پکڑنے کے لئے لائسنس فیس بھی معاف کردی تھی۔ انیس سو ترانوے چورانے میں وزیراعلیٰ سید عبداللہ شاہ نے اس فیس کا خاتمہ کردیا۔ یہ سسٹم انیس سو ننانوے تک چلتا رہا۔ لیکن بعد میں حکومت نے کنٹریکٹ اور لائسنس دونوں کو لاگو کردیا۔

پاکستان فیشرفولک فارم کنٹریکٹ سسٹم کی مخالف کررہا ہے اور مناسب فیس کے بدلے میں حقیقی مچھیروں کو لائسنس دینے کے حق میں ہے۔ سندھ کی موجودہ حکومت کنٹریکٹ سسٹم کے خاتمے پر راضی ہوگئی تھی۔ بدین میں اس سال ہمارے ساتھ حکومتی اہلکاروں کی جو میٹنگ ہوئی تھی اس میں یہ طے پایا تھا کہ مچھیروں کی ان برادریوں کو مچھلی پکڑنے کے حقوق دیے جائیں گے جن کا ان علاقوں پرتاریخی حق بنتا ہے۔ لیکن حکومت اپنے اس وعدے سے پھر ہوگئی ہے۔

سندھ کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ پرائیوٹ سیکٹر کو بدین کے ساحلی علاقوں میں مچھلی پکڑنے کے حقوق کی نیلامی کرے گی۔ لیکن جب مچھیروں نے احتجاج کیا تو حکومت نے اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا اور پھر سے وعدہ کیا کہ کنٹریکٹ سسٹم ختم کردیا جائے گا۔

لیکن ایک بار پھر سندھ حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی ہے اور کنٹریکٹ کی نیلامی کے لئے صوبے کے اخباروں میں اس بات کے لئے اشتہارات دیے گئے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ جون کے اواخر تک نیلامی جاری رہے گی۔ اخباروں میں بیانات کے ذریعے حکومتی اہلکاروں نے پاکستان فیشرفولک فارم کے مظاہرے نہ روکنے پر سخت کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔ پاکستان فیشر فولک فارم کے مطالبات کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں، مچھیرے اور غیرسرکاری ادارے حمایت کررہے ہیں۔


نوٹ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اگر ’آپ کی آواز‘ کے لئے آپ بھی کسی موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
66پڑھائی کا کیا ہوگا؟
ڈیرہ بگٹی سے ایک لڑکے کا خط
66میرا صفحہ: مختارمائی
’اس طرح کے فیصلوں پر بات کرنی چاہیے‘
66میری رائے
حیدرآباد دکن کی یہ لڑکی۔۔۔
66پانی کی قلت
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد