BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 April, 2005, 20:22 GMT 01:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیاپانی کامسئلہ حل ہو سکتا ہے؟
گزشتہ سال بھارت میں پانی کی شدید کمی رہی ہے۔
گزشتہ سال بھارت کے کچھ علاقوں میں پانی کی شدید کمی رہی ہے۔
دنیا کی ایک تہائی آبادی ان ممالک میں رہتی جن کو پانی کی قلت کا شکار علاقے سمجھا جاتا ہے اورخدشہ ہے کہ سن دو ہزار پانچ تک دنیا کی دو تہائی آبادی پانی کی قلت کا شکار ہو جائے گی۔

کیا ہم دنیا میں پانی کی کمی کے مسئلہ پر قابو پا سکتے ہیں اور اگر ہاں تو کیسے؟ اس سوال کےجواب میں ماہرین مختلف آراء رکھتے ہیں تاہم تمام ماہرین ایک بات پر متفق ہیں اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کاحل اتنا اسان نہیں۔

ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا پرائیویٹ ادارے، بین الاقوامی تجارتی کمپنیاں اورجدید ٹیکنالوجی کا استعمال پانی کی کمی والے ممالک میں موثر ہو سکتے ہیں یا نہیں۔



پروفیسر ٹونی ایلن
کنگز کالج لندن

پروفیسر ٹونی ایلن کے خیالات امید افزا ہیں۔ ان کہ کہنا ہے کہ وہ لوگ جو دنیا میں پانی کے مسئلہ کے بارے میں مایوس ہیں وہ لوگ غلط ہیں مگر ان کے خیالات ٹھیک ہیں جبکہ وہ لوگ جو پر امید ہیں وہ درست ہیں مگر خطرناک بھی۔

پانی کی صورتحال پر مایوس لوگ اس لحاظ سے اچھے ہیں کہ وہ کم از کم اس مسئلہ کی شدت کو دنیا کے سامنے لا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب پانی کے بارے میں پر امید لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ چونکہ گزشتہ پانچ ہزار سال میں پانی انسان کا مسئلہ نہیں رہا ہے اس لیے اب بھی فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

دنیا کے جوعلاقے خشک سالی کا شکار ہیں ان کے لیے پانی کی بین الاقوامی تجارت ایک اچھا حل ہو سکتی ہے۔

کسی بھی شخص یا معیشیت کی پانی کی ضرورت کا نوے فیصد خوراک پیدا کرنے میں خرچ ہوتا ہے۔ جہاں تک پینےاور دوسری گھریلو ضروریات کے لیے پانی کا تعلق ہے تو اس کا دس فیصد تقریباً دنیا میں ہر جگہ مقامی طور پر دستیاب ہے۔ جن علاقوں میں اتنا پانی بھی نہیں دستیاب وہاں عموماً نمکین پانی سے پینے کا پانی پیدا کر لیا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے البتہ ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں سمندری پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا۔

دنیا میں خوراک پیدا کرنے کے جدید طریقے منظر عام پر آرہے ہیں جن میں پانی کو بہت سلیقے سے استعمال کیا سکتا ہےاورضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

پانی کی قلت اپنی جگہ لیکن خشک سالی کے شکار ممالک میں اصل مسئلہ غربت ہے کیونکہ لوگ پانی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یاد رہے پانی کی غربت عمومی غربت کی وجہ سے ہوتی ہے جب کہ پانی کی قلت غربت کا باعث نہیں ہو سکتی۔

افریقہ میں پانی کی کمی کے مسئلہ پر قابو پانے کا بہترین راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ممالک اپنی معیشیت میں زیادہ سے زیادہ تنوع لائیں۔


ڈاکٹر لیلہ مہتا
انسٹیچیوٹ آف ڈیویلوپمنٹ سٹڈیز
یونیورسٹی آف سسیکس

غریب ممالک میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں پانی کے سرکاری نظام کودوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ پرائیویٹ کمپنیاں غریبوں کو پانی مہیا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

میری تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانی کی قلت ایک سادہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس میں حکومتی اقدامات، معاشرتی،سیاسی اورماحولیاتی اسباب شامل ہیں۔ اس لحاظ سے اس مسئلہ کا حل بھی پیچیدہ ہی ہو گا۔

دنیا میں جہاں بھی پانی کی فراہمی کا بیڑا پرائیویٹ کمپنیوں نےاٹھایا ہے وہاں پر سب سے پہلے غریب لوگوں کے گھروں کے پانی کےکنکشن کٹے ہیں۔ ان ممالک میں پرائیویٹ کمپنیوں کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے قوانین کی کمی ہے۔

اس کے علاوہ دنیا کی بڑی کمپنیاں غریب ممالک سے اپنا کاروبار اس لیے بھی لپیٹ رہی ہیں کہ وہاں ان کے خلاف غریب لوگ احتجاج پر اتر آئے ہیں اور انہیں اپنا سرمایہ خطرے میں لگتا ہے۔

جہاں تک پانی کے سرکاری نظام کا تعلق ہے تو وہ اکثر ممالک میں پیسے کی کمی کا شکار ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پانی کی سرکاری سکیمیوں کی دیکھ بھال میں سستی دکھائی جاتی ہے۔

نتیجہ یہ کہ اس صورتحال کا فائدہ صرف ایک گروپ کو پہنچ رہا ہے اور وہ ہیں غیر قانونی طور پر کام کرنے والےچھوٹے ٹھیکیدار۔

میں یہ نہیں کہتی کہ پرائیویٹ کمپنیاں پانی کی فراہمی میں بالکل ناکام ہیں، تاہم میں یہ ضرور کہوں گی کہ غریب لوگوں کو پانی مہیا کرنے کے لیے حکومتی اداروں کو آگے آنا پڑے گا اور سرکاری سکیموں کو زندہ کرنا پڑے گا۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد