BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 March, 2005, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان سوڈان بن سکتا ہے‘

پانی کا مسئلہ
پاکستان میں پانی کا مسئلہ سنگین صورتِ حال اختیار کرتا جا رہا ہے
آج لاہور میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے ایک تقریب میں ماحول اور جنگلی حیوانات سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کہا کہ ملک میں پانی کی دستیابی مسلسل کم ہورہی ہے اور آئندہ چند برسوں میں یہ خطرناک حد تک کم ہوسکتی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے پانی سے متعلق ماہر حماد نقی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پچانوے فیصد دستیاب پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور تقریباً پانچ فیصد پانی صنعتی اور انسانی ضروریات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہر کے مطابق پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے بیس سال بعد سنہ دو ہزار پچیس میں ملک میں پانی ضرورت سے پچاس فیصد کم مقدار میں دستیاب ہوگا۔

حماد نقی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی رگِ حیات دریائے سندھ ہے اور پاکستان میں زمین کی سطح کے اوپر اوسطاً ایک سال میں ایک سو اڑتیس ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے جبکہ زیر زمین پانی کی مقدار کا اندازہ پچپن ملین ایکڑ فٹ ہے جس میں سے پچاس ایم اے ایف پانی کو ٹیوب ویلوں کے ذریعے باہر نکال لیاجاتا ہے۔

پانی کے ماہر کے مطابق ملک میں انیس سو پچپن میں پانی کی فی کس دستیابی تقریبا ڈھائی ہزار کیوبک لٹر تھی تھی جو اب کم ہوتے ہوتے بارہ سو کیوبک لٹر رہ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی کس ایک ہزار کیوبک لٹر پانی دستیاب ہو تو انسان کا گزارہ ہوسکتا ہے جبکہ پاکستان میں بیس سال بعد یہ دستیابی آٹھ سو سینتیس کیوبک لٹر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان سوڈان جیسی خشک سالی کا شکار ہوسکتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق چھ سال بعد ملک میں پانی کی کمی ضرورت سے اکیس فیصد کم اور بیس سال بعد نصف ہوجائے گی۔انٹرنیشنل واٹر مینجمینٹ انسٹیٹیوٹ نے بھی مستقبل کے اندازوں میں پاکستان کو پانی کے اعتبار سے خطرہ کے زون میں شمار کیا ہے۔

نقی خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کے ذریعے اتنا پانی نکالا گیا ہے کہ زیر زمین لاکھوں سال پرانا پانی جسے فوسل پانی کہا جاتا ہے وہ بھی نکال لیا گیا ہے اور اگلے پندرہ برسوں میں زیر زمین پانی ختم ہوجائے گا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے ہکہ ملک میں زیر زمین پانی کو نکالنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں جس وجہ سے بے تحاشا پانی نکالا جارہا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح گر رہی ہے۔

ماہر کے مطابق لاہور شہر کے گرد زرعی زمینوں پر رہائشی کالونیاں بننے سے کچی زمینیں پختہ ہوگئیں اور پانی زمین میں جذب ہونا کم ہوگیا اور زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی۔ پہلے لاہورمیں پانی تین سو فٹ گہرائی سے نکالا جاتا تھا جو اب آٹھ سو فٹ سے نکالا جارہا ہے اور کئی ٹیوب ویل خشک ہوگئے ہیں۔

پانی کی دستیابی میں کمی ہی ایک مسئلہ نہیں اس کی آلودگی ایک اور اہم معاملہ ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہر کے مطابق پاکستان کے کئی شہروں میں کرائے گئے سروے نتائج کے مطابق شہروں میں پینے کے پانی میں آرسینک کی مقدار زیادہ پائی گئی جو زہر ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ماہر عظمی خان کا کہنا ہے کہ پانی کی آلودگی اور کمی کا نشانہ دریائے سندھ میں رہنے والی دنیا کی منفرد نابینا ڈولفن یا بھلّن بھی بنی ہے جس کی نسل ختم ہونے کا خطرہ ہے اور ملک میں اس کی آبادی صرف گیارہ سو رہ گئی ہے۔ دریائے سندھ پر چھ بیراج بنے ہیں جس وجہ سے نابینا ڈولفن کی آبادی تقسیم ہوگئی اور اس کی نسل خطرہ سے دوچار ہوگئی۔

عظمیٰ خان نے کہا کہ گدو اور سکھر بیراجوں کا علاقہ قانون کی رو سے ڈولفن کا ریزرو ہے جہاں شکار منع ہے لیکن پھر بھی مچھلیاں پکڑنے کے ٹھیکے دیے جاتے ہیں اور ڈولفن جال میں پھنس کر مر جاتی ہے کیونکہ یہ پانی سے باہر اچھل کر سانس لیتی ہے اور پانی میں مسلسل رہنے سے مر جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکھر اور کوٹری کے درمیان پانچ سو کلومیٹر کے دریا میں صرف اٹھارہ ڈولفن رہ گئی ہیں کیونکہ وہاں پانی یا تو کم ہے یا اس کا معیار اچھا نہیں۔ نابینا ڈولفن ٹھہرے ہوئے پانی میں زندہ نہیں رہ سکتی بلکہ یہ تازہ چلتے ہوئے پانی کا جانور ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد