آلودہ پانی پینے سے چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خضدار کے قریب آلودہ پانی سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ تحصیل وڈھ کے ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر دین محمد نے کہا ہے کہ اب سے تھوڑی دیر پہلے ایک اڑھائی سالہ بچہ نعیم اللہ ہلاک ہو گیا ہے۔ مزید آٹھ افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ وڈھ سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور ایک دیہات میں آلودہ پانی پینے سے لگ بھگ چالیس افراد متاثر ہوئے تھے جنھیں دست اور قے آنا شروع ہو گئی تھی۔ اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ آلودہ پانی پینے سے کم سے کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں دو خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چالیس افراد اس پانی سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ خضدار کی تحصیل وڈھ سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور تراکھالہ کے علاقے میں لوگ جوہڑ کا پانی پیتے ہیں اور یہ پانی بارش اور قریبی ندی سے یہاں آتا ہے۔ ناظم خضدار سردار اسلم بزنجونے کہا ہے کہ اس علاقے میں زیادہ تر خانہ بدوش رہتے ہیں جو ان جوہڑوں کا پانی پیتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کی ٹیم اس علاقے کی طرف بھیج دی گئی ہے جہاں متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ضلعی افسر برائے صحت خضدار ڈاکٹر الٰہی بخش نے کہا ہے کہ تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور چالیس کے لگ بھگ متاثر ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانی کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں جن کا جائزہ لیا جائے گا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ جوہڑ کے پانی میں زہریلے اثرات پیدا ہوئے ہیں جس سے حالات خراب ہوئے ہیں تاہم صورتحال اُس وقت واضح ہو گی جب پانی کا مکمل تجزیہ کر لیا جائے گا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش نے کہا ہے کہ ابھی صبح ایک اور شخص کی ہلاکت کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے لیکن تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ بدھ دوپہر سے شروع ہوا جب علاقے کے لوگوں کو دست اور قے آنا شروع ہوئے جس سے ان کے جسم میں پانی کی کمی ہو گئی اور کمزوری ہو گئی۔ قریبی صحت مرکز سے انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی ہے تاہم علاقے میں صحت کی بہتر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے بقول اس وقت علاقے میں طبی کیمپ لگا دیا گیا ہے اور لوگوں کو متاثرہ جوہڑ کا پانی پینے سے منع کر دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||