پانی بچائیں گوشت کم کھائیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی دنیا میں جس قسم کی خوراک آج کھائی جا رہی ہے آنے والی نسلیں آبی ذخائر میں کمی کی وجہ سے اس قسم کے کھانوں کا مزہ نہیں لے سکیں گے۔ ورلڈ واٹر ویک یعنی ’پانی کا عالمی ہفتہ‘ کے شرکاء کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں بتایا جائے گا کہ گوشت اور دودھ سے بنی اشیاء کی مانگ میں اضافہ پائیدار نہیں ہے۔ جانوروں کو خوراک پیدا کرنے کے لیے فصلوں کی نسبت بہت زیادہ پانی چاہیے ہوتا ہے اور زیادہ آبادی کا مطلب ہے کہ زیادہ پانی چاہیے ہوگا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مناسب خوراک کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے دنیا کو اپنے کھانے کی عادات بدلنا ہوں گی۔ سٹاک ہوم میں پانی کا بین الاقوامی ادارہ ہر سال پانی پر کانفرنس منعقد کرتا ہے۔ اس سال یہ کانفرنس پندرہ سے اکیس اگست تک ہوگی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ’آج دنیا میں آٹھ سو چالیس ملین لوگوں کو مناسب غذائیت والی خوراک مہیا نہیں ہے۔ دو ہزار پچیس تک دو ارب آبادی کے اضافے کے بعد خوراک کی قلت اور بھی بڑھ جائے گی اور خوراک پیدا کرنے کے لیے کافی پانی کا میسر ہونا ایک اہم مسئلہ ہوگا‘۔ ادارے کے آندریز برنٹل کا کہنا ہے کہ ’بنیادی وجہ خوراک کی پیداوار میں پانی کا استعمال ہے۔ بارش کے علاوہ ستر فی صد پانی فصلوں کی کاشت پر صرف ہوتا ہے۔آخری بات یہ ہے کہ خوراک کی پیداوار میں پانی کے مصرف کو کم کرنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جانوروں کی خوراک کے لیے پانی درکار ہوتا ہے۔ترقی یافتہ ملکوں اور کچھ ترقی پزیر ملکوں میں خوراک میں گوشت کی مانگ بڑھ رہی ہے۔لیکن جو خوراک آج مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں کھائی جاتی ہے شاید آنے والے دنوں میں یہ خوراک وہاں مہیا نہ ہو سکے۔ میرا خیال ہے کہ پانی کا مسئلہ سب سے بڑا ہے مگر ابھی تک ہمیں اس کا احساس نہیں ہے‘۔ برنٹل نے کہا کہ امیر ممالک تو باہر سے پانی خرید کر مسئلہ حل کر لیں گے۔ مگر اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا مسئلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا ’آسٹریلیا کے لوگ اس وقت حیران ہوئے جب انہیں پتہ چلا کہ بے شک ان کے ہاں پانی کی کمی ہے لیکن وہ گوشت کی صورت میں کتنا پانی درآمد کر رہے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||