BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2003, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فاسٹ فوڈ موٹا کرتا ہے
برگر
اس برگر میں مزا اور خطرہ ساتھ ساتھ بند ہیں

پہلی دنیا ہو یا تیسری دنیا۔جو لوگ شہروں میں رہتے ہیں ان میں سے بیشتر نے کم ازکم ایک دفعہ تو برگر ، فرائڈ چکن اور پیتزا تو کھایا ہو گا۔لیکن جن لوگوں کو مذکورہ کھانا مہنگا لگتا ہے انہوں نے اس کے متبادل کے طور پر بند کباب یا بریڈ کباب تو یقیناً خریدا ہوگا۔یہ اور اس طرح کے پکوان فاسٹ فوڈ کے زمرے میں آتے ہیں۔

فاسٹ فوڈ کی خوبی یہ ہے کہ آسانی سے دستیاب ہے۔مزیدار ہے۔فوری طور سے کھایا جا سکتا ہے اور نہ بھی کھایا جاسکے تو آپ اسے ایک لفافے یا بیگ میں رکھ کر جہاں چاہیں لے جا سکتے ہیں۔ان خوبیوں کی بنیاد پر اسکی لت بڑی آسانی سے لگ سکتی ہے بالخصوص بچوں کو۔اسی لۓ ہر سال دنیا میں اربوں ڈالر کا فاسٹ فوڈ فروخت ہوتا ہے۔مگر اسکی خوبیاں بس یہاں آ کر رک جاتی ہیں اگلا مرحلہ ہے خرابیوں کا۔

مثلاً ایک عام برگر کو لیجئے۔دیکھنے میں یہ زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔پیٹ بھی شائد ایک برگر سے پوری طرح نہ بھر پاۓ۔اسکے باوجود ایک عام روائتی پکوان کے مقابلے میں اس برگر میں اتنی کیلوریز ہوتی ہیں جو انسانی جسم کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔یہی زائد کیلوریز جسم میں چربی کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ورزش کرنے کی فرصت نہیں ملتی اور زندگی کی مصروفیت اور تن آسانی بار بار فاسٹ فوڑ کی طرف لے کر جاتی ہے۔ یوں موٹاپے اور توند کا لا محدود سفر شروع ہو جاتا ہے۔

ایک دفعہ آپ جو فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں اس میں ایک روائتی برطانوی پکوان کے مقابلے میں ڈیڑھ گنا اور ایک روائتی افریقی ڈش کے مقابلے میں ڈہائی گنا کیلوریز ہوتی ہیں۔

لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسنز کے ایک محقق پروفیسر اینڈریو پرینٹس کے بقول گاؤں میں ہزاروں برس سے جس طرح کا کھانا کھایا جاتا ہے وہ مقدار سے قطع نظر کیلوریز میں کم ہوتا ہے لہذا آپ کو ترقی پزیر ممالک کے دیہی علاقوں میں بہت کم موٹے توندئیل آدمی ملیں گے۔ ہمارے جسم اتنی زیادہ کیلوریز ہضم کرنے کے لئے نہیں بنے جتنی کیلوریز فاسٹ فوڈ کی طرح کے کھانوں میں موجود ہیں۔نتیجہ موٹاپے کی وبا کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مارکیٹ میں تیار شدہ پروسسیسڈ کھانوں اور فاسٹ فوڈ کی اتنی بھر مار ہے کہ ایک متوازن غذا کیسے تلاش کی جاۓ۔اس کا حل ایک سرکردہ ماہرِ غذا ڈاکٹر سوزان جیب یہ بتاتی ہیں کہ اگر آپ کے سامنے فاسٹ فوڈ آ ہی جاۓ تو پھر اسکی صرف آدہی مقدار کھائیں تاکہ جسم میں ضرورت سے زیادہ کیلوریز نہ جائیں۔ظاہر ہے کہ یہ کوئی شافی حل نہیں ہے۔

ڈاکٹر سوزان کے بقول مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ فاسٹ فوڈ کمپنیاں اخلاقی زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کم کیلوریز والا کھانا بنائیں اور کھانے کے اندر کون کون سے اجزا کتنی مقدار میں اور کتنی کیلوریز کے ساتھ موجود ہیں ، اسکی تفصیلات کھانے کے لیبل پر چھاپیں۔

مگر اصل نکتہ یاد رکھنے کا یہ ہے کہ فاسٹ فوڈ اور ورزش نہ کرنے کی عادت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد