45 ہزار پاؤنڈ کا انڈین کھانا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں مقیم ایک امریکی نے حال ہی میں ہندوستانی کھانوں کی ایک دعوت پر 45 ہزار پائونڈ خرچ کر ڈالے۔ اس دعوت میں صرف 90 نوّے مہمان شریک ہوئے۔ جو میزبان کے دوست تھے اور جن کی اکثریت برطانویوں پر مشتمل تھی۔ اپنی بنائی گئی پینٹنگز کی نمائش منعقد ہونے کےسلسلے میں اس امریکی نے اس دعوت کا اہتمام کیاتھا۔ یہ دعوت لندن کےعلاقے’ مے فیر` میں واقع مشہور ہندوستانی ہوٹل’ ٹامارنڈ` میں دی گئی تھی۔ ہوٹل کے جنرل مینیجر راجیش سوری کا کہنا ہے کہ ہمارے یہ خاص گاہک گزشتہ چند برسوں سے ہر مہینے میں دو تین مرتبہ ضرور آتے ہیں۔ لیکن اتنا بڑا ِبل انہوں نے پہلی بار ادا کیا ہے۔ اس خاص دعوت کے مینو میں چکن تکّا مسالہ کے علاوہ اجوین میں بنائے گئے جھینگے، تِل کے پکوڑے ،گرماگرم تندوری چکن اورزعفرانی چاول وغیرہ شامل تھے۔ ہوٹل کے باورچی ایلفریڈ پرساد نےایک ماہ پہلے ہی اس خاص دعوت کے مینو کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ ہوٹل کی انتظامیہ نے میزبان کی فرمائش پر ہوٹل کا پورا ماحول ہندوستانی رنگ میں رنگ دیا تھا۔ اوراس شام ہوٹل میں بولی ووڈ کے مشہورومقبول رقص اور موسیقی کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||