BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 November, 2004, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں شدید خشک سالی

ہانا لیک
سوکھی ہوئی ہانا لیک جو کوئٹہ کے رہنے والوں کی واحد تفریح گاہ تھی
بلوچستان میں شدید خشک سالی کی وجہ سے بعض متاثرہ علاقوں سے لوگوں نے نہ صرف نقل مکانی شروع کردی ہے بلکہ بین الاقوامی امدادی اداروں سے لوگوں نے امداد کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

کوئٹہ میں خشک سالی پر غیر ملکی بین الاقوامی تنظیموں اور صوبائی حکومت کے تعاون سے منعقدہ سیمینار میں ماہرین نے کہا ہے کہ اگر اس مسئلے کی طرف ابھی سے توجہ نہ دی گی تو اس صورتحال پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

سیمینار کے ایک منتظم بین الاقوامی امدادی ادارے اوکسفام کے عہدیدار ادریس خان نے بتایا ہے کہ گزشتہ سات سالہ خشک سالی سے صوبے کے بعض علاقے سخت متاثر ہوئے ہیں جن میں نوشکی نمایاں ہے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے بلکہ وہاں لوگ امدادی اداروں سے مدد کی اپیل کرتے ہیں۔

پشتون قوم پرست جماعت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے اپنے تئیں ایک تحقیق کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ پشتون علاقوں میں کل ساڑھے سترہ سو کاریزوں میں سے تقریبا ساڑھے تیرہ سو خشک ہو چکی ہیں اسی طرح تین ہزار سے زائد چشموں میں سے چھبیس سو سے زیادہ چشمے خشک ہوگئے ہیں گیارہ ہزار میں سے ساڑھے پانچ ہزار ٹیوب ویل خشک ہیں۔

جماعت کے صوبائی سیکرٹری عثمان کاکڑ نے سیمینار میں بتایا ہے کہ پینتالیس لاکھ سے زائد درخت خشک اور تقریبا اڑتیس لاکھ مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگر ان کا تخمینہ لگایا جائے تو اربوں کا نقصان ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔

ہانا لیک
سوکھی ہوئی ہانا لیک کا ایک منظر

انھوں نے کہا ہے حکومت نے اس حوالےسے کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی اور جو رقم وفاقی حکومت سے سے قرضے کے طور پر حاصل کی گئی وہ استعمال ہی نہیں ہو پائی۔

کوئٹہ شہر میں زیر زمین پانی کی سطح کافی نیچے گر گئی ہے۔ اکثر علاقوں میں لوگ تین سو روپے کا ٹینکر خریدتے ہیں اور ایک مہینے میں ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار روپے کا پانی خریدتے ہیں۔

کوئٹہ میں بارش کے لیے عید سے پہلے اور بعد میں بھی نماز استسقاء ادا کی گئی لیکن بارشیں نہیں ہوئیں۔ اب ماہرین موسمیات نے کہا ہے کہ اگلے سال جنوری فروری میں بارشیں ہونے کی توقع ہے۔

بلوچستان حکومت کے سیکرٹری آبپاشی عبدالسلام نے کہا ہے کہ آبپاشی کے منصوبوں کے لیے فراہم کردہ رقم صوبے کے قبائل اور معاشرتی حالات کی وجہ سے استعمال نہیں ہو پائی۔ اگلے سال سے ایک اور منصوبے کے تحت جو رقم فراہم کی جائے گی اسے بہتر طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کسان اور زمینداروں نے پانی کو کفایت سے استعمال نہیں کیا اور اب بھی آبپاشی کے جدید طریقے استعمال نہیں کرتے جس وجہ سے پانی کا زیاں ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد