BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 September, 2004, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں خشک سالی کی وارننگ

پانی کی کمی
پاکستان دوسرے درجے کی خشک سالی یعنی موسمیاتی خشک سالی کی وارننگ دی گئی ہے
دریائی نظام میں وافر پانی نہ ہونے کے باعث محکمہ موسمیات کی جانب سے خشک سالی کی تنبیہ کے بعد حکومت نے صوبوں کو آبپاشی کے لئے پانی کی ترسیل میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے جس سے اس سال گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے صدر، وزیراعظم اور دیگر اعلی سرکاری حکام کو بھیجے گئے ایک انتباہ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران پاکستان میں مون سون کے موسم میں کم بارشوں کے باعث ملک کے دو بڑے آبی ذخیروں میں زرعی ضروریات کے مطابق پانی جمع نہیں ہو سکا لہذا پاکستان دوسرے درجے کی یعنی موسمیاتی خشک سالی کا شکار ہو چکا ہے۔

محکمہ موسمیات کی تنبیہ میں کہا گیا ہے کہ اگرذخیروں میں موجود پانی کا بے دریغ استعمال جاری رہا تو نوبت زرعی خشک سالی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل قمرالزمان چودھری نے بتایا کہ نہ صرف یہ کہ اس سال ضرورت سے بہت کم بارش ہوئی بلکہ ملک کے بالائی علاقوں میں موسم کی حدت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے پہاڑوں پر برف پگھلنے کی رفتار بھی خاصی سست رہی اور اتنی برف نہیں پگھل سکی جس سے ہمارے آبی ذخائر مکمل طور پر بھر سکتے۔

قمرالزمان چودھری کے مطابق صوبہ پنجاب میں 25 فیصد کم بارش ہوئی جبکہ سندھ میں یہ کمی 50 سے 75 فیصد تک رہی۔ بلوچستان میں صورت حال خراب رہی جہاں بالکل بھی بارش نہیں ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے موجودہ فصلوں کو تو کوئی خطرہ لاحق نہیں لیکن آئندہ چند مہینوں میں کاشت کی جانے والی گندم کی فصل کو پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

محکمہ موسمیات کی اس واضح تنبیہ کے بعد ملک میں دریائی پانی کا انتظام کرنے والے ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے صوبوں کو تربیلہ اور منگلا ڈیم سے روزانہ ملنے والے پانی کی مقدار میں نمایاں کٹوتی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صوبوں کے نمائندوں پر مشتمل اس وفاقی ادارے کے سیکرٹری سہیل خان نے بتایا کہ اس سال صوبوں کو ربیع کی فصل کے لئے ضرورت سے 40 فیصد تک کم پانی دیا جائے گا کیونکہ دو بڑے ڈیموں کو بھی اتنی ہی کمی کا سامنا ہے ـ ربیع کی سب سے نمایاں فصل گندم ہے۔

سہیل خان کا کہنا تھا کہ اگر ہم چاہتے تو خریف کی حالیہ فصل کے لئے پانی کم کر کےڈیم بھر سکتے تھے لیکن وفاقی حکومت اور صوبوں کے مشورے کے بعد خریف کے بجائے ربیع کی فصل کے لئے پانی کی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا۔ سہیل خان کے مطابق خریف کے موسم کی فصلیں کسانوں اور ملکی معیشت کے لئے
زیادہ اہم ہوتی ہیں جن میں کپاس سرفہرست ہے جو پاکستان کےلئے زرمبادلہ کمانے والی سب سے بڑی فصل ہے۔

سرکاری طور پر جاری ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق ملک کا سب سے بڑا ڈیم تربیلہ اپنی مجموعی صلاحیت سے صرف 60 فیصد ہی بھر سکا جبکہ منگلا ڈیم میں 67 پانی موجود ہے۔ قمرالزمان چودھری کے مطابق ملکی تاریخ میں اس موسم میں پانی جمع ہونے کی یہ سب سے کم شرح ہے۔

قمرالزمان چودھری نے بتایا کہ انہوں نے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بتا دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی اس سال کم بارشیں ہونے کے امکانات ہیں لہذا دستیاب پانی کو عقلمندی سے استعمال کر کے ہی ملک کو بڑے بحران سے بچایا جا سکتا ہے ـ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے جو انہوں نے تجویز بھی کر دیئے ہیں۔

چند سال پہلے بھی پاکستان کو ایسی ہی صورتحال کا سامناتھا جب کم بارشیں ہونے سے ملکی زراعت بری طرح متاثر ہوئی تھی اور حکومت کو آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے گندم درآمد کرنی پڑی تھی۔ روایتی طور پر پاکستان اپنی ضرورت کی گندم میں خودکفیل ہے ـ لیکن اس سال پانی کی کمی کے پیش نظر حکومت نے پہلے ہی گندم درآمد کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں اور گندم کی پہلی کھیپ ستمبر کے وسط تک پاکستان پہنچنے کے امکانات ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد